انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان متوقع تجارتی معاہدے پر امریکہ نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ (یورپی ممالک) اپنے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا اعلان آج یعنی 27 جنوری کو ہو سکتا ہے، جب یورپی اور انڈین رہنماؤں کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔ واضح رہے کہ یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس ڈی کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین 26 جنوری کو انڈیا کے رپبلک ڈے کی تقریبات میں مہمان خصوصی تھے۔ رپبلک ڈے پر یورپی شخصیات کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنا انڈیا کی جانب سے ایک اہم سفارتی پیغام ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف کے چیلنج کے بعد انڈیا دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
لندن میں واقع تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس سے منسلک تجزیہ کار چیٹیگج باجپائی نے کہا کہ ’’انڈیا متنوع خارجہ پالیسی رکھتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کا محتاج نہیں۔‘‘ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب یورپ ایک نئے جیوپولیٹیکل چیلنج سے گزر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
امریکی سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’’یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ نے یورپ سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا اور اس کے بدلے میں یورپ انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔‘‘ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ’’روسی خام تیل انڈیا جاتا ہے، وہاں ریفائن کیا جاتا ہے اور یورپی ممالک ریفائنڈ پراڈکٹ خریدتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے خلاف جنگ کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر کی انڈیا آمد پر بھارتیوں کی پوجاپاٹ، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
متوقع معاہدے کو یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین اور انڈیا کے وزیرِ تجارت پیوش گویل نے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ گذشتہ دو دہائیوں میں جاری مذاکرات کا اختتامی مرحلہ سمجھا جا رہا ہے اور یہ انڈیا کا نوواں فری ٹریڈ معاہدہ ہوگا، جس سے پہلے وہ برطانیہ، عمان، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے یورپی یونین کو انڈیا کے بڑھتے ہوئے معاشی مطالبات کے پیش نظر فوائد حاصل ہوں گے، جبکہ انڈیا کے لیے یہ مارکیٹ کی کھوئی ہوئی رسائی بحال کرنے اور امریکی ٹیرف کے اثرات کم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ تاہم، سیاسی طور پر حساس شعبے جیسے زراعت اور ڈیری اس معاہدے سے دور رہیں گے، جبکہ دیگر اشیا پر ٹیرف میں مرحلہ وار کمی آئے گی۔
تجزیہ کار سمیدھا داس گپتا اور ایلکس کیپری کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں فریقین کے لیے ایک اقتصادی اور جیوپولیٹیکل فتح ثابت ہو سکتا ہے، جس سے امریکہ اور دیگر غیر قابل اعتماد شراکت داروں پر انحصار کم ہوگا۔ البتہ یورپ میں کاربن اخراج اور انسانی حقوق کے مسائل کی وجہ سے کچھ مخالفت بھی متوقع ہے۔




