میرٹ میں کمی کے باوجود میڈیکل کالجز میں نشستیں خالی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

ملک میں میڈیکل تعلیم کا شعبہ اس وقت ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے، جس پر سوشل میڈیا سمیت مختلف طبقات میں مسلسل گفتگو اور بحث جاری ہے۔

حالیہ داخلہ سیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جہاں ماضی میں میڈیکل کالجز میں داخلے کا میرٹ 95 فیصد یا اس سے بھی زیادہ رہا کرتا تھا، وہیں اب یہ نمایاں طور پر کم ہو کر تقریباً 60 فیصد تک آ چکا ہے۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر ملک کے مختلف میڈیکل کالجز میں بڑی تعداد میں نشستیں تاحال خالی ہیں، جو خود ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتی ہیں۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے یہ تاثر ملتا ہے کہ والدین اب میڈیکل شعبے کی عملی حقیقتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگے ہیں۔ وہ پیشہ جو کبھی عزت، محفوظ مستقبل اور سماجی مقام کی علامت تصور کیا جاتا تھا، آج شدید ذہنی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، محدود مالی فوائد اور بڑھتے ہوئے قانونی و پیشہ ورانہ خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے والدین اور طلبا دونوں کی ترجیحات میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

دوسری جانب داخلہ میرٹ میں اس نمایاں کمی نے ایک اہم اور تشویشناک سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا صرف 60 فیصد نمبرز حاصل کرنے والے طلبا سے وہ علمی، عملی اور اخلاقی صلاحیت متوقع کی جا سکتی ہے جو ایک محفوظ، ذمہ دار اور معیاری ڈاکٹر بننے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر نشستیں خالی رہ رہی تھیں تو کیا معیار کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں خالی چھوڑ دینا زیادہ مناسب فیصلہ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:دوست ملک کا پاکستانی طلبا کے لیے ہزاروں سکالرشپس کا اعلان

اس حوالے سے پمز اسپتال کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا ہے کہ تعلیمی معیار اور مریضوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کسی مرحلے پر مطلوبہ معیار کے حامل امیدوار دستیاب نہ ہوں تو نشستوں کو خالی رکھنا ایک ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ اقدام ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے معیار کے تحت پاکستان میں مستند ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کمی کو بنیاد بنا کر میرٹ پر سمجھوتہ کسی صورت درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صرف تعداد بڑھانے کی خاطر معیار کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات مستقبل میں مریضوں کی جان اور شعبے کی ساکھ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل ربی، صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آباد اور ماہرِ انتہائی نگہداشت، نے کہا کہ ایک وقت تھا جب میڈیکل کے شعبے میں داخلہ والدین کی سب سے بڑی خواہش سمجھا جاتا تھا، مگر اب حالات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ میڈیکل تعلیم کے معیار میں مسلسل کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بیرونِ ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے طلبا کے لیے پی ایم ڈی سی کے امتحانات میں بطور ممتحن شریک رہے، جہاں خاص طور پر وسطی ایشیا، بالخصوص کرغزستان کے بعض نجی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کی تعلیمی کمزوری دیکھ کر انہیں شدید تشویش لاحق ہوئی۔

ڈاکٹر فضل ربی کے مطابق کئی طلبا کو طب کے بنیادی تصورات تک کا درست علم حاصل نہیں تھا۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں عمارتیں کرائے پر لے کر نام نہاد میڈیکل کالجز اور جامعات قائم کی گئیں، جنہیں مختلف طریقوں سے پاکستانی اداروں کے ساتھ منسلک یا تسلیم شدہ کروایا گیا۔ ان کے مطابق اس پورے عمل نے میڈیکل تعلیم کے معیار کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ اس کے برعکس ایران، گیمبیا اور حتیٰ کہ افغانستان جیسے ممالک میں معیار نسبتاً بہتر پایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد میں تو اضافہ ہو رہا ہے، لیکن معیار خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ نجی میڈیکل کالجز میں بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، جہاں ایک طالب علم پانچ سال میں تقریباً دو کروڑ روپے خرچ کر کے ایم بی بی ایس مکمل کرتا ہے، مگر ڈگری کے بعد اسلام آباد جیسے شہر میں بھی اسے صرف 50 سے 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ ان کے مطابق آج کے دور میں صرف ایم بی بی ایس کافی نہیں رہا، اسپیشلائزیشن ضروری ہو چکی ہے، لیکن انڈکشن کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔

ڈاکٹر فضل ربی کا کہنا تھا کہ وہ خود اس نظام سے اس قدر مایوس ہو چکے ہیں کہ ملک سے باہر کام کے مواقع کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری تنخواہ کا بڑا حصہ رہائش کے اخراجات میں خرچ ہو جاتا ہے اور باقی رقم میں خاندان کی کفالت ممکن نہیں رہتی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں صحت کے شعبے پر مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے، جس کے باعث نہ ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہتر ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

اسی تناظر میں ایک اور ڈاکٹر، جنہوں نے پاکستان میں ایم بی بی ایس مکمل کیا، نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً چار سال ملک میں کام کیا، مگر محدود مواقع اور کم تنخواہ کے باعث بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق پاکستان چھوڑتے وقت ان کی تنخواہ تقریباً 80 ہزار روپے ماہانہ تھی، جبکہ آج وہ لندن میں فزیوتھراپسٹ کے طور پر بہتر پیشہ ورانہ احترام اور معقول آمدن حاصل کر رہی ہیں۔ کرن کا کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان میں رہتیں تو شاید اگلے دس سال میں بھی اس سطح کی آمدن حاصل نہ کر پاتیں۔

یہ بھی پڑھیں: اہم ایشیائی ملک کا پاکستانی طلبہ کیلئے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان

دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے معائنے اور منظوری کے عمل سے متعلق خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معائنے عالمی معیار کے مطابق، شفاف اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہیں۔ کونسل کے مطابق اصلاحات، ڈیجیٹل نظام اور عالمی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک میرٹ میں کمی اور نشستوں کا خالی رہنا مستقبل کے میڈیکل پروفیشنلز کے معیار پر سنجیدہ سوالات ضرور کھڑے کر رہا ہے۔

Scroll to Top