بالائی علاقوں میں برفباری کا نیا سپیل، ہر شے سفید چادر میں ڈھک گئی

بالائی علاقوں میں برفباری کا نیا سپیل شروع ہوگیا، جس کے دوران آسمان سے سفید گالوں کی برسات ہوتی رہی اور ہر شے برف میں ڈھک گئی۔وادی نیلم، باغ، سدھن گلی، گنگا چوٹی، نیزہ گلی اور تولی پیر میں بھی سفید چادر بچھ گئی جبکہ ملکہ کوہسار مری اور گلیات میں سنو فال کے مناظر نے سیاحوں کو محظوظ کیا۔ کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہتر زئی، مسلم باغ اور چمن میں بھی برفباری ہوئی۔

برفباری کے باعث متعدد رابطہ شاہراہیں بلاک ہوگئیں، جس سے لوگوں کے لیے نقل و حمل مشکل ہوگیا۔ گریس ویلی اور شونٹر ویلی کی سڑکیں بند رہنے کی وجہ سے کئی لوگ محصور ہو کر رہ گئے۔ باغ میں برفانی تودہ گرنے کے باعث ایک شہری چل بسا جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لیپہ اور نیلم ویلی میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 13 گھر مکمل طور پر تباہ اور 28 جزوی متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: برفباری کا نیا سلسلہ شروع، سڑکیں بدستور بند،وزیراعظم نے انتظامیہ کو الرٹ کردیا

بعد ازاں برفباری سے بند وادی لیپہ کی شاہراہ بحال کر دی گئی، تاہم گلیات میں چار روز گزرنے کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر کھل نہیں سکیں۔ نانگا پربت اور بابو سر ٹاپ پر دس فٹ سے زیادہ برف پڑ چکی ہے، جس سے ہر شے منجمد ہوگئی اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

برفباری کی وجہ سے خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ ناران، کاغان، کالام اور چترال میں سڑکیں بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ مالم جبہ میں برفباری نے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیا، جہاں لوگ سنو فال کے مناظر سے لطف اندوز ہوئے۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر بھر میں بارش ، برفباری ، ایس ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بادل برس پڑے اور ٹھنڈ کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ بالائی علاقوں میں برفباری کے نتیجے میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر گیا۔ لہہ میں منفی 12، زیارت میں منفی 8، استور، گوپس اور پارا چنار میں منفی 7 درجے ریکارڈ کیے گئے۔ مالم جبہ، قلات اور راولا کوٹ میں منفی 5 ریکارڈ ہوا جبکہ کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 11 اور لاہور میں 7 درج کیا گیا۔

Scroll to Top