کیل سیری کے علاقے میں جھولا پل گرنے کے واقعے نے مقامی آبادی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے، جس کے بعد علاقے میں آمد و رفت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ پل کے گرنے سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد رابطہ سڑکیں بحال کرنے کا عمل شروع، درجنوں افراد ریسکیو
علاقہ مکینوں کے مطابق لوکل گورنمنٹ اور متعلقہ ٹھیکیدار کی نااہلی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس نے عوامِ علاقہ کو شدید ذہنی اور عملی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پل کے اُس پار رہنے والے گھروں تک اب کسی بھی قسم کی رسائی ممکن نہیں رہی، جس کے باعث لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کو کھانے پینے کے سامان کی قلت کا بھی سامنا ہے اور بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
متاثرہ افراد نے بتایا کہ اس صورتحال میں معصوم بچے، بزرگ اور بیمار افراد سب سے زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ علاج معالجے، روزمرہ ضروریات اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے باعث مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پل کے گرنے سے نہ صرف نقل و حرکت بند ہوئی ہے بلکہ پورا علاقہ عملی طور پر کٹ کر رہ گیا ہے۔
علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو محض نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اس کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے بارش اور برفباری کے نئے سپیل کی پیشگوئی کر دی
متاثرہ عوام نے متعلقہ حکام بالخصوص شاہ غلام قادر صاحب سے پُرزور اپیل کی ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ داروں کا سخت احتساب کیا جائے اور پل کی فوری تعمیر کروا کر عوام کو اس اذیت سے نجات دلائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ آمد و رفت بحال کی جائے تاکہ زندگی دوبارہ معمول پر آ سکے اور متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔




