بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد رابطہ سڑکیں بحال کرنے کا عمل شروع، درجنوں افراد ریسکیو

مظفر آباد: ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ بالائی علاقوں میں کئی فٹ برف پڑنے کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، تاہم پاک فوج اور ضلعی انتظامی اداروں کی بروقت کارروائیوں سے درجنوں افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔

ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ تھمنے لگا ہے۔ تاہم مزید برفباری کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ برفباری کا سلسلہ تھمنے پر راستوں سے برف ہٹانے کا کام تیز کر دیا گیا ہے، رابطہ سڑکیں بحال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے اور مسافروں اور سیاحوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

آزاد کشمیر:
آزاد جموں و کشمیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے اور موسم صاف ہے، دھوپ نکل گئی ہے۔ تاہم برف باری کے باعث آزاد کشمیر کی بیشتر رابطہ سڑکیں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ محکمہ شاہرات کا عملہ اور مشینری موقع پر موجود ہے اور برف ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ تمام سیاحتی مقامات برف باری کے باعث بند ہیں۔

مظفرآباد سے نیلم روڈ پر سفر کیا جا سکتا ہے، مگر نیلم ویلی میں کیل سے شاردہ تک سڑک بند ہے جبکہ کنڈل شاہی سے کٹن (کٹن جاگراں روڈ) بھی بند ہے۔ مین شاہراہ نیلم ماربل سے دوسٹ تک ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی ہے، دوسٹ سے آگے مشینری کام کر رہی ہے۔

جہلم ویلی میں مختلف سڑکیں بند ہیں اور بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ لیپہ ویلی، لیپہ موجی اور ریشیاں روڈ بند ہیں۔ باغ آزاد کشمیر میں بھی مختلف سڑکیں بند ہیں جبکہ بجلی کی بحالی کا کام بھی جاری ہے۔ مظفرآباد سے راولپنڈی سفر کیا جا سکتا ہے، تاہم مری میں تمام سیاحتی مقامات بند ہیں۔ گنگا چوٹی، پیر چناسی، تولی پیر اور لاسڈنہ جانے والی سڑکیں بھی بند ہیں۔

شدید برفباری کے باعث ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت تقریباً 25 گاڑیاں پھنس گئیں۔ پاک فوج نے 32 مسافروں کو ریسکیو کیا اور ایمبولینس میں موجود 2 میتیں بھی نکال لیں۔ گاڑیوں میں تقریباً 100 افراد سوار تھے۔ مظفرآباد میں کئی سالوں بعد برفباری ہوئی جبکہ وادی نیلم میں شدید برفباری سے 3 مکانات گر گئے۔

برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہیں بند ہوگئیں اور متعدد علاقوں میں پولز گرنے اور بجلی کی تاریں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے، جس کی وجہ سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

خیبرپختونخوا:
وادی کاغان میں برفباری سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کردیا۔ سیاحوں کو بالا کوٹ میں روکا گیا۔ دیربالا، کمراٹ، لواری ٹنل اور باجوڑ میں بھی برفباری سے راستے بند ہیں۔

ملاکنڈ میں کئی سالوں کے بعد برفباری ہوئی اور بعض مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔ خیبر میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اور انہیں پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا۔ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے بارش اور برفباری کے نئے سپیل کی پیشگوئی کر دی

گلگت بلتستان:
چلاس اور اپرکوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ استور میں شدید برفباری سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا اور ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جبکہ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے روڈ بلاک ہوگئی۔

ہنزہ اور نگر میں برفباری کے باعث رابطہ سڑک بند ہے۔ وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو سخت سردی کا سامنا ہے۔

گلیات اور مری:
نتھیاگلی میں تین فٹ جبکہ ٹھنڈیانی میں چار فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ نتیجتاً معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ایبٹ آباد میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ایبٹ آباد سے مری جانے والی مرکزی سڑک تاحال نہیں کھل سکی اور گلیات کے دیہات کی رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں۔

گلیات میں گزشتہ دو روز سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جس کے باعث مقامی افراد اور سیاح شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سڑکوں کی بحالی اور بجلی کی فراہمی کے لیے کام جاری ہے، تاہم شدید سردی اور زیادہ برف کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ملکہ کوہسار میں چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی برفباری کا سلسلہ تھم گیا، مری کی تمام رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے اور سیاحوں کا داخلہ بند ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کی زندگیاں بچانا اولین ترجیح ہے۔ مری میں تمام ہوٹل بھر چکے ہیں اور سیاحوں کی گنجائش موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر سمیت ملک بھرمیں بارشیں، برفباری کا نیا سپیل آنیوالا ہے: محکمہ موسمیات

بلوچستان:
شمالی بلوچستان میں برفباری رکنے کے باوجود سائبرین ہواؤں کی وجہ سے شدید سردی برقرار ہے۔ کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا اور شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ این 50 ژوب ہائی وے کئی مقامات پر بند ہے اور زیارت جانے والے سیاحوں پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور این ایچ اے کی جانب سے نمک پاشی اور برف ہٹانے کا عمل جاری ہے۔

این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی ہدایات:

این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے پہاڑی اور بالائی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر 23 سے 29 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مغربی ہواؤں کی وجہ سے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید برفباری متوقع ہے، خاص طور پر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں۔

پی ڈی ایم اےکے مطابق اتوار رات سے منگل تک مزید بارش اور بالائی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے۔ چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Scroll to Top