ڈھاکا:بنگلا دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بنگلادیش میں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد پہلے عام انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہونے جارہے ہیں جس کے لیے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی مہم کا باضاطہ آغاز کردیا ہے۔
حسینہ واجد کے خلاف تحریک چلانے والے نوجوانوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے ڈھاکہ سے اپنی مہم کا آغازکیا ۔جماعت جماعت اسلامی بنگلادیش نے بھی دارالحکومت ڈھاکا سے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔
اس کے علاوہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے سربراہ طارق رحمان نے بھی ضلع سلہٹ میں روڈ شو کیا۔دوسری جانب پابندی عائد ہونے کے باعث سابق بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ انتخابی دوڑ سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات میں نئی سیاسی پارٹی نے انٹری دیدی، اہم شخصیات شامل
بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیاجس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین پارٹی جھنڈے اٹھائے طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
طارق رحمان گزشتہ ماہ 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ وہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔
بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے، جن میں 350 ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق یہ عمل 2026 کا سب سے بڑا جمہوری عمل ہو سکتا ہے۔
انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں سیاسی بے یقینی، سکیورٹی خدشات اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
نگراں حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ وہ ایک “تباہ شدہ سیاسی نظام” ورثے میں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم کی تجویز دی ہے، جو انتخابات کے روز ہی کرایا جائے گا۔
محمد یونس کے مطابق اگر عوام اصلاحات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو “نئے بنگلا دیش” کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ انتخابات کے بعد وہ نگراں حکومت سے دستبردار ہو جائیں گے۔




