مظفرآباد سے شیر خوار بچے کے اغواء کا افسوسناک واقعہ،تفصیلات سامنے آگئیں

ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں ایک شیرخوار بچے کو لے کر فرار ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

واردات کسی زبردستی یا طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مکر و فریب کے ذریعے انجام دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم ، کمسن بہنوں کو اغواء کرنے والے ملزم کو عمرقید،20لاکھ جرمانے کی سزا

ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ کے گاؤں سنگڑھ بٹھارہ کے رہائشی اور پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے نکیر مشتاق کا نومولود بیٹا صبح تقریباً 8 بجے سی ایم ایچ مظفرآباد کے ویٹنگ ایریا سے نامعلوم نوجوان خاتون کے ہاتھوں اغواء ہوا۔

اس وقت بچے کے ساتھ ایک بزرگ خاتون موجود تھیں جو نومولود کی نانی تھیں۔

ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون نے بزرگ خاتون سے یہ کہہ کر مدد طلب کی کہ اس کا بلڈ پریشر اچانک کم ہو گیا ہے اور وہ کنٹین سے پانی لانا چاہتی ہے، لہٰذا بچہ مجھے دیں اورپانی لادیں۔

بچے کی نانی بزرگ خاتون نے سادگی اور بھروسے میں آ کر بچہ اس خاتون کے حوالے کیا اور خود پانی لینے چلی گئیں، تاہم واپسی پر وہ خاتون بچے سمیت غائب ہو چکی تھی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون رات سے ہی متاثرہ خاندان کے اردگرد موجود رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات منصوبہ بندی کے تحت اور دھوکے سے کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد:ڈاکٹروردا کاہسپتال سے اغواء بعد قتل،ملزمان گرفتار،تفتیش شروع

واقعہ کسی زبردستی اغواء کی تعریف میں نہیں آتاکیونکہ نہ تو کسی قسم کی طاقت استعمال کی گئی اور نہ ہی کسی نے بچے کو چھین کر لے جانے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور نومولود کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات جاری ہیںجبکہ اہلِ خانہ اور علاقہ مکین شدید رنج و غم میں مبتلا ہیں۔

Scroll to Top