کوٹلی میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے وکلاء کو معاشرے کا وہ طبقہ قرار دیا جو نہ صرف عوامی مسائل کے حل میں کردار ادا کرتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر میں کوئی اشرافیہ نہیں ہے اور ایم ایل اے ووٹ کی پرچی سے اسمبلی جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دوسرے کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کمی کوتاہی کے باوجود بہتر سیاسی نظام موجود ہے، تاہم ہائبرڈ نظام کے باعث نظام ڈسٹرب ہوا اور بہتر سالوں کے مسائل اڑھائی سال میں سامنے آئے، ایسے حالات کبھی نہیں دیکھے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر عملدرمد، تاخیر نہیں کی،ریاست افراتفری کی متحمل نہیں ہوسکتی، وزیراعظم فیصل راٹھور
انہوں نے مزید کہا کہ معاملات درست ہیں لیکن طریقہ کار سے اختلاف ہے۔ ایک ہی نظام چل سکتا ہے، دو نہیں۔ افراتفری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بات نہ سنی جائے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ جب ریاست کا وزیر اعظم خود چل کر آپ کے پاس آئے تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے۔ انہوں نے وکلاء کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ریاست لاشوں اور افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ آٹھ ماہ کی حکومت میں سیاست کو بحال کیا گیا اور سیاسی نظام بحال ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد معاملات کو ٹکراؤ کے بجائے افہام و تفہیم سے آگے بڑھانا ہے۔
تقریب سے سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یٰسین، سردار آفتاب انجم ایڈووکیٹ، سید عامر شاہ اور عبدالسلام عارف ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا اور وکلاء کے کردار اور درپیش مسائل پر اظہار خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نےچوک صاحباں میں رورل ہیلتھ سنٹر کا افتتاح کر دیا
تقریب کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر نے ڈسٹرکٹ بار کے لیے تیس لاکھ روپے کی گرانٹ اور جوڈیشل کمپلیکس کے قیام کا اعلان کیا، جسے وکلاء برادری نے خوش آئند قرار دیا۔ خطاب کے دوران بجلی بند ہونے پر وزیراعظم نے موبائل فون کی لائٹ آن کر کے اپنا خطاب جاری رکھا، جسے شرکاء نے ان کی سنجیدگی اور عزم کی مثال قرار دیا۔




