چینی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں میموری چِپس کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے اپنی مصنوعات کی قیمتوں اور ماڈلز کی ترتیب میں تبدیلیاں کر رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر کم قیمت والے فونز پر پڑ رہا ہے ۔
ٹیکنالوجی ریسرچ فرم او ایم ڈی آئی اے کے ایک تجزیہ کار کے مطابق، پچھلے ایک سال میں اسٹوریج کمپوننٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس نے خاص طور پر 100 ڈالر سے کم قیمت والے اسمارٹ فونز کی منافعیت متاثر کی ہے ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ رواں سال بھی برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے صنعت بھر میں قیمتوں اور شپمنٹس کی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں ۔
او ایم ڈی آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے سال کے ابتدائی نو ماہ میں دنیا بھر میں تقریباً 900 ملین اسمارٹ فونز کی ترسیل ہوئی، جن میں سے 60 فیصد سے زائد فروخت چینی کمپنیوں کے حصے میں آئی ۔
اگرچہ کم قیمت ماڈلز عالمی سطح پر زیادہ فروخت ہوئے، لیکن اہم پرزہ جات، خصوصاً میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ان سے حاصل ہونے والا منافع متاثر ہوا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:متعدد نئے اسمارٹ فونز ٹاپ ٹین فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی موبائل فون کمپنیاں ماضی میں سستے ماڈلز کے ذریعے مارکیٹ میں وسعت حاصل کرتی رہی ہیں، لیکن اب وہ اپنی توجہ درمیانے اور بلند قیمت والے فونز کی طرف منتقل کر رہی ہیں ۔ اگرچہ یہ برانڈز مختلف ممالک میں متعارف ہوتے رہیں گے، تاہم ان کی مسابقتی حکمت عملی میں واضح تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں ۔
آنر کو گزشتہ سال کے ابتدائی نو ماہ میں بیرونِ ملک مارکیٹس میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا چینی برانڈ قرار دیا گیا، جس کی فروخت میں سال بہ سال 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی زیادہ تر ترقی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہوئی ۔
آنر نے زیادہ تر 300 سے 500 ڈالر کے درمیانے درجے کے فونز پر توجہ مرکوز رکھی، جو اس کی بیرونی فروخت کا 23 فیصد بنے۔ آنر X9 کی فروخت، سابقہ X9 بی ماڈل کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ رہی، جبکہ آنر 400 سیریز کی ترسیل آنر 200 سیریز کے مقابلے میں تقریباً 86 فیصد بڑھ گئی ۔
دیگر کمپنیوں میں بھی مصنوعات کی ترتیب میں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اوپو نے ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 200 ڈالر کے سستے فونز کی پالیسی ترک کر کے درمیانے اور نسبتاً بلند درجے کے 4G فونز پر توجہ دینا شروع کر دی ہے ۔
شیاؤمی نے جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی یورپ میں اپنے برانڈ امیج کو بہتر بنانے اور درمیانے سے اعلیٰ درجے کے فونز کی فروخت بڑھانے پر کام کیا ہے، جبکہ ویوو نے جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ شمالی افریقہ اور لاطینی امریکا، خصوصاً برازیل میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبول اسمارٹ فونز کی فہرست، شیاؤمی کی ڈیوائسز لانچ ہونے سے پہلے ہی چھا گئیں
ٹرانسشن ہولڈنگز، جو اسٹوریج کی قیمتوں میں اضافے سے شدید متاثر ہوئی، اب قسطوں میں ادائیگی جیسے مالیاتی طریقے متعارف کروا کر صارفین کے لیے خریداری آسان بنانے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں ترسیل برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔




