جنیال قتل کیس کا فیصلہ، ایک ملزم کو سزائے موت، ایک کو 14 سال قید، 6 بری

میرپور (کشمیر ڈیجیٹل) ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت نے جنیال نئی آبادی میں پیش آنے والے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ ایڈیشنل ضلع قاضی کرامت حسین نظامی نے مقدمہ علت نمبر 106/2021 کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ صادر کیا۔

تفصیلات کے مطابق مدعی بشارت محمود ولد محمد صادق کی مدعیت میں تھانہ نیو سٹی میرپور میں 24 جولائی 2021 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق مقتول نئی آبادی جنیال کا رہائشی تھا، جو علی الصبح تقریباً پانچ بجے گھر پر موجود تھا کہ ملزمان نے اس پر حملہ کیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہوا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھنےکا فیصلہ،نوٹیفکیشن جاری

عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ذوالفقار احمد، غلام حیات عرف عمر حیات، ماجد، زوہیب عزیز، محمد بشیر اور صابر حسین کو عدم ثبوت کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔۔

جبکہ ان کے ضامنان کو بھی ضمانت سے آزاد کر دیا گیا۔ عدالت نے مختار احمد اور رضوان عزیز کو قتل اور دیگر سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سکیورٹی فورسز کی بنوں اور کرم میں کامیاب کارروائیاں، خوارج ہلاک

عدالت نے ملزم مختار احمد کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی اور دفعہ 544 ض ف کے تحت 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ مقتول کے ورثاء کو ادا کرنے کا حکم دیا۔

عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قیدِ محض بھگتنا ہوگی۔ اسی طرح مختار احمد کو دفعہ 15 ضمن 2 آرمز اینڈ ایمونیشن ایکٹ 2016 کے تحت تین سال قیدِ محض اور 20 ہزار روپے جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی، جرمانہ عدم ادائیگی پر تین ماہ مزید قید ہوگی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بادام دل،بلڈپریشراورنظامِ ہاضمہ،شوگر کنٹرول کیلئے مفید

عدالت نے ملزم رضوان عزیز ولد عبدالعزیز کو دفعہ 302 (C) کے تحت 14 سال قیدِ محض کی سزا سنائی۔ مزید برآں دفعہ 452 تعزیراتِ پاکستان کے تحت دونوں مجرمان کو تین، تین سال قید اور دس، دس ہزار روپے جرمانہ

جبکہ دفعہ 148، 147، 149 کے تحت دو، دو سال قید اور پانچ، پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

عدالت نے مجرمان کو دفعہ 382-B ض ف کا فائدہ بھی دیا اور حکم دیا کہ تمام سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ مجرمان اپنی سزائیں ڈسٹرکٹ جیل میرپور میں بھگتیں گے۔

عدالتی فیصلہ 32 صفحات پر مشتمل ہے جو دفعہ 366 ض ف کے تحت کھلی عدالت میں سنایا گیا۔ مقدمے میں سرکار کی جانب سے ناصر فاروق ایڈووکیٹ (اے پی پی) جبکہ مدعی کی جانب سے راجہ انعام اللہ، عبدالواحد عامر، عاکف فاروق اور راجہ شہروز ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔ ملزمان کی وکالت عبدالحمید ایڈووکیٹ نے کی۔

Scroll to Top