ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) مرکزی رہنما تحریک انصاف ذیشان حیدر نے جہلم ویلی میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور محکمہ جنگلات کے سیاسی استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے
سید ذیشان حیدر نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے قیمتی قدرتی وسائل کو انتخابی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، جو ایک سنگین ماحولیاتی اور اخلاقی جرم ہے۔
سید ذیشان حیدر نے کہا کہ ہٹیاں بالا میں محکمہ جنگلات کا دفتر عملی طور پر ایک سیاسی اکھاڑا بن چکا ہے جہاں جعلی تقرریاں، بندربانٹ، غیرقانونی لکڑی کے پرمٹ اور سیاسی سودے بازی کھلے عام کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی اعتماد سے کھلا کھلواڑ بھی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دنیا کی پہلی اڑنے والی الیکٹرک اڑن کار کی پروڈکشن شروع
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر جنگلات کی کٹائی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اور محکمہ جنگلات کے بعض کرپٹ اہلکار حکمران جماعت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
“پورے جہلم ویلی میں ’ووٹ کے بدلے درخت کاٹ لو‘ کا گھناؤنا دھندہ جاری ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے مجرمانہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔”
سید ذیشان حیدر نے انکشاف کیا کہ حلقہ نمبر چھ کے حصے میں آنے والے تجدیدِ جنگلات (ری فاریسٹیشن) کے منصوبوں کو ایک منظم سازش کے تحت دوسرے حلقوں میں منتقل کر دیا گیا
مزید یہ بھی پڑھیں:محکمہ برقیات کی ھٹ دھرمی،عوام سے ٹرانسفارمر ٹھیک کروانے کے پیسے وصول
جبکہ حلقے کا نااہل ایم ایل اے جنگلات کے تحفظ کے بجائے جعلی بھرتیوں، کھوکھلے نعروں اور غیرقانونی کٹائی میں مصروف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں سیاسی بنیادوں پر خلافِ قانون نصف درجن فارسٹ گارڈز بھرتی کیے گئے جومیرٹ اور قواعد کو پامال کرتے ہوئے ووٹوں کے عوض جنگلات کٹوانے میں سرگرم ہیں۔
“یہ صرف کرپشن نہیں بلکہ ایک منظم ماحولیاتی دہشت گردی ہے، جس میں منتخب نمائندے اور محکمہ جنگلات کے اہلکار برابر کے شریک ہیں۔”
مزید یہ بھی پڑھیں:ن لیگی ٹکٹ کیلئےکتنی درخواستیں موصول ہوئیں؟تفصیلات سامنے آگئیں
سید ذیشان حیدر نے محکمہ جنگلات کے کرپٹ اہلکاروں کو آخری وارننگ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیرقانونی کٹائی، جعلی تقرریاں اور سیاسی مداخلت بند کی جائے
بصورت دیگر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گی اور عوامی احتساب ہر سطح پر کیا جائے گا۔
“جنگلات عوام کی امانت ہیں، کسی سیاسی جماعت یا چند کرپٹ افراد کی جاگیر نہیں۔ اگر یہ لوٹ مار نہ رکی تو سڑکوں پر نکل کر فیصلہ کن آواز بلند کی جائے گی۔”
انہوں نے اعلیٰ حکام، عدلیہ اور انسدادِ بدعنوانی کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی جائیں،
غیرقانونی تقرریاں منسوخ کی جائیں اور جنگلات کی کٹائی میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔




