اسلام آباد: پاکستان تاجکستان کو 1 لاکھ 43 ہزار ٹن حلال گوشت برآمد کرنے کیلئے تیار ہے جس کی مجموعی مالیت 14.5 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور مختلف چیمبرز آف کامرس کی قیادت نے اس پیشرفت پر پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ توئیر کی کوششوں کو سراہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیمنٹ کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد اضافہ، برآمدات میں کمی ریکارڈ
سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حلال گوشت کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے تاجکستان کو 14.5 ملین ڈالر مالیت کا حلال گوشت برآمد کرنے کا منصوبہ نہ صرف حلال مصنوعات کی تجارت کو فروغ دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارتی حجم میں بھی اضافہ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے فعال کردار سے آنے والے برسوں میں دوطرفہ تجارت 500 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور حلال تجارت اور زرعی مصنوعات سمیت مختلف شعبوں میں بڑے امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعینات تاجک سفیر یوسف شریف زادہ توئیر نے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور مستقبل کیلئے اقتصادی وژن فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
صدر ICCI کے مطابق تاجکستان نے پہلے ہی تقریباً 1 لاکھ ٹن حلال گوشت میں دلچسپی ظاہر کی تھی، جسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ برآمدات کی جا رہی ہیں۔
یہ اقدام پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت کو 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کیلئے تجارتی سہولیات، لاجسٹکس اور ترجیحی تجارتی معاہدوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
تجارت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون بھی بڑھایا جا رہا ہےجس کے تحت طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، بالخصوص طبی تعلیم کے شعبے میں، مفاہمتی یادداشت (MoU) پر کام جاری ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) وقت کی اہم ضرورت ہے جو تجارتی آزادی اور علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی پروازوں کی بحالی نہ صرف تجارتی و اقتصادی تعلقات بلکہ ثقافتی روابط کو بھی مضبوط کرے گی، جبکہ سیاحت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کے صدر عثمان شوکت نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات پاکستان کیلئے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے تاجکستان کی سالانہ 8 فیصد جی ڈی پی گروتھ کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو وفود کے تبادلے کے ذریعے تعلقات مزید مضبوط بنانے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں کا اہم کارنامہ ، چکن کا متبادل اور ماحول دوست گوشت تیار کر لیا
واضح رہے کہ یہ پالیسی عالمی حلال مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بڑھانے کیلئے مرتب کی گئی ہے خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک میںجس کیلئے لائیوسٹاک کی پیداوار، کولڈ اسٹوریج اور عالمی معیار پر عملدرآمد بہتر بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان سالانہ تقریباً 60 لاکھ میٹرک ٹن حلال گوشت پیدا کرتا ہے، جس میں سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد بڑی مقدار برآمد کیلئے دستیاب ہے۔
وزارتِ تجارت کے سینئر حکام کے مطابق یہ برآمدات جلد یا مستقبل قریب میں شروع ہونے جا رہی ہیں۔
یہ اقدام وسطی ایشیائی منڈیوں میں پاکستان کے داخلے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور ملائیشیا، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک کو گوشت اور چاول کی برآمدات کی کوششوں کی تکمیل بھی کرتا ہے۔



