مظفرآباد: خواتین کے مسائل کے حل کے لیے اینٹی ہراسمینٹ سیل فعال

مظفرآباد : آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں موجود اینٹی ہراسمینٹ سیل نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اس سیل کا مقصد خواتین کے مسائل اور ہراسمینٹ کے واقعات کا فوری ازالہ کرنا اور متاثرہ خواتین کو انصاف تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

سیل کے حکام نے تمام خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ اینٹی ہراسمینٹ سینٹر آئیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم یا ہراسمینٹ کے واقعات کی تفصیلات بیان کریں تاکہ انہیں فوری قانونی و سماجی معاونت حاصل ہو سکے۔

ایک خاتون نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ “اینٹی ہراسمینٹ سیل خواتین کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ انصاف تک پہنچنے کے لیے یہ اہم قدم مؤثر ثابت ہوگا۔”

واضح رہے کہ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل کے حل کے سلسلہ میں ضلع پولیس مظفرآباد نے خواتین اینٹی ہراسمینٹ اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سنٹر 13 نومبر 2025 کو قائم کیا۔ جناب رانا عبدالجبار، انسپکٹر جنرل پولیس آزادکشمیر نے سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم میں درختوں کی بے دریغ کٹائی، دیودار کی لکڑی کی سمگنگ ناکام

افتتاحی تقریب میں کمشنر مظفرآباد ڈویژن، ڈپٹی انسپکٹر جنرل صاحبان پولیس، ڈپٹی کمشنر مظفرآباد، ہیڈکوارٹرز مظفرآباد کے پولیس افسران، انتظامی افسران، چائلڈ پروٹیکشن و سوشل ویلفیئر کے نمائندگان، محکمہ صحت و تعلیم، وکلاء، صحافی، تاجران، NGOs اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

انسپکٹر جنرل پولیس نے اظہار فرمایا کہ ڈی آئی جی ریجن اور ایس ایس پی مظفرآباد کی کاوشوں سے یہ سنٹر قائم ہوا ہے اور جلد مظفرآباد میں ویمن پولیس سٹیشن بھی قائم کیا جائے گا۔ خواتین اور بچوں کے مسائل کے حوالے سے اس نوعیت کے مراکز آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی قائم کیے جائیں گے۔

مزید فرمایا کہ ایس ایس پی مظفرآباد کی انتھک محنت اور کاوشوں سے سنٹر کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس سنٹر میں تجربہ کار لیڈی پولیس انسپکٹر کو بطور انچارج تعینات کیا گیا ہے، جبکہ خواتین سے متعلقہ معاملات کے حل کے لیے پولیس ملازمین بھی تعینات ہیں۔

سنٹر میں خواتین اور بچوں کو ایک محفوظ پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں گی اور قانونی و سماجی معاونت حاصل کر سکیں گی۔ خواتین اور بچوں کے معاملات کے حل کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جائے گا۔

ایس ایس پی مظفرآباد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع مظفرآباد کی کل آبادی 0.73 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں تقریباً 49 فیصد خواتین شامل ہیں۔ آبادی میں اضافے کے باعث جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور خواتین سے متعلق جرائم جیسے گھریلو تشدد، بلیک میلنگ، عصمت دری، قتل، تیزاب کی دھمکیاں، اغواء اور بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حلقہ کھاوڑہ، راجہ شوکت کی ن لیگ ٹکٹ کیلئے انٹری، سیاسی ماحول گرم ہوگیا

ضلع مظفرآباد میں خواتین سے متعلقہ معاملات کی دیکھ بھال اور مقدمات کی تفتیش کے لیے پہلے کوئی علیحدہ سیٹ اپ موجود نہیں تھا، جس کے باعث خواتین کے مسائل کی یکسوئی میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں خواتین سے متعلق جرائم کے 659 مقدمات اور بچوں سے زیادتی کے 55 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

Scroll to Top