صدر مادورو کی تصاویر اصلی ہیں یا نقلی؟؟ بڑا انکشاف

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گزشتہ روز گرفتاری سے متعلق خبر سامنے آنے کے بعد ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ان کی تازہ تصاویر تیزی سے گردش کرنے لگیں، تاہم اب یہ تصاویر مشکوک قرار دی جا رہی ہیں۔ ان تصاویر کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

تصویر بنانے والے شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ایک جعلی اور خیالی تصویر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی تھی، جس میں انہیں امریکہ کی تحویل میں دکھایا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کی حقیقت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

اے ایف پی فیکٹ چیک کے مطابق تصویر بنانے والے شخص کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اس بات پر حیران رہ گئے ہیں کہ ان کی تیار کردہ تصویر سوشل میڈیا پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مرتبہ دیکھی گئی۔ اس شخص کے مطابق اسے کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بنائی گئی ایک جعلی تصویر اتنا بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مادورو کی گرفتاری سے تاجر کو لاکھوں ڈالر کا منافع مل گیا

اس شخص نے کہا، “میں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میری بنائی ہوئی ایک جعلی تصویر اتنا بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔”
مزید کہا گیا، “اگر صرف 78 فالوورز والا ایک عام سا اکاؤنٹ اتنی بڑی گونج پیدا کرسکتا ہے تو ذرا سوچیں کہ وہ لوگ کیا کچھ کر سکتے ہیں جن کے لاکھوں فالوورز ہیں۔”

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی جعلی تصاویر اور ویڈیوز کس طرح عوامی رائے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے مواد کا تیزی سے وائرل ہونا نہ صرف غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے بلکہ سیاسی بے چینی اور عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں،مادورو کا امریکی الزامات تسلیم کرنے سے انکار

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایسے واقعات کہیں زیادہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں، جو معاشروں میں مزید بے یقینی کو جنم دے سکتے ہیں۔

Scroll to Top