مودی سرکار کی نئی سازش، مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ کے اختیارات گورنر کے حوالے

سری نگر:  نریندرمودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو مزید اختیارات تفویض کرکے علاقے کی منتخب حکومت کو مزید بے اختیارکردیاہے۔

بھارت کی صدردروپدی مرمو نے مقبوضہ جموں وکشمیرسمیت مرکزی زیر انتظام تمام علاقوں کے منتظمین اور لیفٹیننٹ گورنرز کو صنعتی تعلقات کے ضابطہ 2020کے تحت حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کی امریکی لابنگ بے نقاب،پس پردہ حقائق سامنے آ گئے

2 جنوری کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر ز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مقامی منتخب نمائندوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لیبر قوانین پر عمل درآمد، ٹریڈ یونینز کی نگرانی اور صنعتی تنازعات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

حکام نے بتایاکہ اس اقدام کا مقصد انتظامیہ کو مضبوط کرنا ہے لیکن تجزیہ کار اسے ایل جی اور آر ایس ایس کی حمایت یافتہ حکومت کو تمام اختیارات دینے کی دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ وہ ہندوتوا کی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں اور علاقے پر کنٹرول کو مستحکم کر سکیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں منتخب لیڈر پہلے ہی ربڑ سٹیمپ کے طور پر کام کرتے ہیں، اصل اختیارات لیفٹننٹ گورنرکے پاس ہیں۔

اختیارات کی اس تازہ ترین منتقلی سے علاقے پر قابض انتظامیہ کی گرفت مزید مضبوط ہوگی، جمہوری ڈھانچہ اور مقامی ادارے مزید کمزورہونگے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ہندوتوا کے نظریے کو مسلط کرنے اور کشمیریوں کی شناخت مٹانے کے لیے ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہیں۔

صنعتی تعلقات کا ضابطہ 2020، ٹریڈ یونینوں، روزگار کی صورتحال اور صنعتی تنازعات سے متعلق قوانین کو تقویت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھی،مودی حکومت پر سنگین الزامات، بھارتی سیاستدان کا انکشاف

لیفٹیننٹ گورنرکو ”مناسب حکومت”کا کردار سونپ کربھارتی حکومت نے نہ صرف فیصلہ سازی کومحدودکیا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں صنعت، لیبر یا تجارت سے متعلق کوئی بھی معاملہ قابض حکام کے براہ راست کنٹرول میں رہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردارکیا ہے ایک ایسے خطے میں جسے پہلے ہی بے شمار پابندیوں، فوجی کارروائیوں اور معاشی پسماندگی کا سامنا ہے، ایل جی کے اختیارات میں اضافہ کشمیریوں کی ناراضگی کو مزیدبڑھانے اور اور منتخب حکومت کو دیوار کے ساتھ لگانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آمرانہ طرز حکمرانی کی عکاسی کرتی ہیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک معمول بن چکا ہے۔

Scroll to Top