تہران (کشمیر ڈیجیٹل)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران کی مسلح افواج نے کسی بھی دشمنی کا سخت جواب دینے کا عندیہ دے دیا۔
ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ امریکی صدر کے جارحانہ بیانات کو خاموشی سے نہیں دیکھا جائے گا ، مسلح افواج کسی بھی غلط اقدام کا سخت جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے خلاف جارحانہ بیانات کو خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا کوئی جواب نہیں چھوڑے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چین کی ویزا فیس رعایتی پالیسی میں 31دسمبر2026 تک توسیع
ایران کے فوجی سربراہ کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر تہران پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کرے گا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
امیر حاتمی نے فوجی اکیڈمی کے طلبہ سے خطاب میں کہا کہ میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج ایران کی مسلح افواج کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شوگر سیس فنانس ایکٹ کا نفاذ ، چینی مہنگی ہونے کا امکان
اگر دشمن سے کوئی غلطی ہوگی تو اسے فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور کسی بھی جارح کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران اسرائیل اور امریکا سے متوقع خطرات اور ملکی اقتصادی بحران کے باعث ہونے والے مظاہروں کا سامنا کر رہا ہے جو ملک کی مذہبی قیادت کیلئے ایک براہ راست چیلنج بن چکے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی انکار کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کامشترکہ ویکسین منصوبے پر غور
ادھر حکومت نے بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو ماہانہ سات ڈالر کے مساوی سبسڈی دینے کا آغاز کیا ہے، جس سے 71 ملین افراد مستفید ہوں گے۔
تاہم ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کے سبب بنیادی اشیاء جیسے کھانے کے تیل، گوشت اور پنیر کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑ رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد:قیمتی لکڑ سمگلنگ کا منصوبہ ناکام، ڈرائیور فرار،فارسٹ گارڈ زخمی
ایران کے نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے کہا کہ ملک ایک مکمل اقتصادی جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور داخلی کرپشن اور رینٹیئر پالیسیوں کو ختم کرنے کیلئے فوری اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں اور ملک کے 31 صوبوں میں سے 27 میں 280 مقامات پر پھیل چکے ہیں۔
امریکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اب تک 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 30 مظاہرین، 4 بچے اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔




