جہلم ویلی: ضلع جہلم ویلی کے علاقے چناری کے ملحقہ علاقہ چھم آبشار پر 26 دسمبر کے روز مردہ حالت میں ملنے والی شادی شدہ لڑکی کی موت کا 10روز میں ڈراپ سین ہو گیا۔
لڑکی کو غیرت کے نام پر والدین،ساس،سسر اور ایک کزن نے ملکر قتل کیا،جے آئی ٹی نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے لڑکی کے قتل میں ملوث والدین،ساس،سسر اور کزن کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا۔
26 دسمبر کے روز آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے علاقہ چھم کی رہائشی شادی شدہ نوجوان لڑکی شائستہ بی بی زوجہ ماجد حسین گجر کی نعش چھم آبشار سے ملی۔
یہ بھی پڑھیں: بھمبر میں دلخراش واقعہ،ماں نے دوست کیساتھ مل کر اپنے 3 بچوں کو قتل کر دیا
تھانہ پولیس چناری نے واقعہ مشکوک پاتے ہوئے ورثاء کے انکار کے باوجود نعش کا پوسٹمارٹم کروایاجس میں خودکشی کے شواہد نہ ملے جبکہ لڑکی کے سر اور کمر میں چوٹ تھی، باقی تمام ہڈیاں پسلی سلامت تھی۔
والدین، سسرالیوں نے اس وقت موقف اختیار کیا کہ لڑکی کے ساتھ جنات تھے وہ اسے آبشار پر لے کر گئے اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
پوسٹمارٹم کے دوران لڑکی کے قتل کے زیادہ تر شواہد سامنے آنے کے باوجود ورثاء نے مقدمہ درج کروانے سے انکار کردیا۔
جہلم ویلی کے صحافیوں کی جانب سے قتل کیس مسلسل میڈیا میں ہائی لائٹ کیے جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔
ایس پی جہلم ویلی سید عباس شاہ نے کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ڈی ایس پی ملک رضوان،ڈی ایس پی سیاب عباسی،ایس ایچ او سٹی تھانہ ہٹیاں بالا منظر حسین چغتائی،ایس ایچ او تھانہ چناری چوہدری ممتاز پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی
جے آئی ٹی نے قتل ہونے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ زیر دفعہ 302 پی سی کے تحت مقتولہ کے سسر چوہدری عبدالعزیز ولد عبدالرحمن گجر ساکن چھم کی مدعیت میں درج کرتے ہوئے تفتیش/تحقیقات کا آغاز کرکے خواتین سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا۔
ذرائع کے مطابق دوران تفتیش انکشاف سامنے آیا کہ قتل ہونے والی لڑکی کا شوہر محنت،مزدوری کی غرض سے بیرون ملک ہے،ورثا کوشائستہ کے کسی سے ناجائز مراسم ہونے کا شبہ تھااورسسر نے لڑکی کو والد کے گھر بھیج دیاتھا۔
یہ بھی پڑھیں: شادی شدہ لڑکی کا قتل دبانے کی کوشش ناکام، خواتین سمیت5 افراد گرفتار
اسی رات لڑکی کے والد عبدالحمید،سسر عبدالعزیز،والدہ،ساس اور ایک نصیر نامی کزن نے ایک پلان کے تحت اسے قتل کردیا۔
ذرائع نے بتایا کہ لڑکی کے والد نے پہلے اس کی کمر میں پتھر مارا جس کے باعث وہ بیہوش ہو کر گر پڑی،اس کے بعد اس کے والد نے اس کے سر کی پچھلی سائیڈ پتھر مار کر قتل کردیا۔
قاتلوں نے رات تین بجے چھم آبشار کے پاس چھوڑ دیا اور گاؤں میں افواہ پھیلا دی کہ شائستہ گھر سے رات کو غائب ہو گئی تھی اور صبح اس کی نعش چھم آبشار سے ملی ہے۔




