مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور یاسر سلطان کے درمیان تنازعہ مزید شدت اختیار کرگیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے میرپور میں تعینات ڈپٹی کمشنر چوہدری ساجد اسلم کی جگہ باغ سے راجہ صداقت خان کی تعیناتی کا آرڈر جاری کیا جس کے بعد معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف بڑھنے لگا۔۔
ذرائع کے مطابق وزیر حکومت یاسر سلطان کی بھرپور مخالفت کے باوجود راجہ صداقت کو چوہدری ساجد اسلم کی جگہ ڈی سی میرپور تعینات کر دیا گیا
راجہ صداقت خان کی بطور ڈپٹی کمشنر میرپور تقرری نے حکومت کے اندر بھونچال پیدا کردیا۔۔ ڈی سی میرپور کے تبادلے پر وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور وزیر فزیکل پلاننگ چوہدری یاسر سلطان آمنے سامنے آ گئے۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی مظفرآباد کا اجلاس بدنظمی کا شکار، عہدیداروں میں گرما گرمی،ویڈیو وائرل
ذرائع کے مطابق ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ہیڈ کلرک راجہ عزیز اور سرکاری کوارٹر کے معاملے نے اختیارات کی جنگ کو کھل کر بے نقاب کر دیا ہے۔
کابینہ میں دراڑیں گہری ہو رہی ہیں اور بیرسٹر سلطان گروپ کے وزراء کے علیحدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومت کی طرف سے ڈپٹی کمشنر میرپور کے مبینہ انتقامی تبادلے کے آزادکشمیر میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان
پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین اور صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے گروپ کی جانب سے وزیراعظم کی طرف سے ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے کے فیصلہ پر شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں،
دوسری جانب شہری حلقوں میں بھی یہ بحث زبان زدعام ہے کہ ایک ریٹائرڈ کلرک کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے وزیراعظم نے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کر دیا ہے آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار اس عہدہ کی بری طرح تذلیل کی گئی ہے
پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے سیاسی امور کے انچارج چوہدری ریاض بھی وزیراعظم کے اس فیصلہ سے نالاں ہیں،
زرائع کے مطابق وزیرفیزیکل پلاننگ چوہدری یاسر سلطان نے اپنے ہم خیال ممبران اسمبلی سے مشاورت شروع کر رکھی ہے
مشاورت مکمل ہونے پر وہ موجودہ حکومت کے ساتھ چلنے یا الگ ہونے کا فیصلہ کریں گے ۔سیاسی حلقوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی طرف سے ایسے غیرمقبول فیصلے کی توقع نہیں تھی




