خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کیلئے سیاسی فضا موجود ، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی طور پر دہشتگردی کیلئے موافق فضا موجود ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے جو دو دہائی سے لڑی جارہی ہے ۔

2025 میں ریاست اور عوام کو دہشتگردی کی وضاحت حاصل ہوئی ۔ خوارج کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، ریاست کا دہشتگردی کیخلاف موقف واضح ہے ،

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا صارفین کیلئے بجلی سستی فراہمی کا پلان سامنے آگیا

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگرد خوارج ہیں ۔ یہ فتنہ الہندوستان ہیں ، ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ پچھلے سال 75175 انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کئے گئے ۔

اس سال دہشتگردی کے 5400 واقعات پیش آئے ، 2021 میں193 دہشتگرد جہنم واصل کئے جاتے ہیں۔ 597 سکیورٹی فورسز کی شہادتیں ہوتی ہیں ۔یعنی ایک دہشتگرد کے پیچھے تین شہید کئے گئے ۔

انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔خیبر پختونخوا میں سیاسی طور پر دہشتگردی کیلئے موافق فضا موجود ہے امریکہ افغانستان میں 7.2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی

5397 دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں سے 3811 خیبرپختونخوا میں ہوئے ۔27 خودکش حملے کئے گئے ، 16 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان میں اورا یک اسلام آباد میں ہوا ۔

2 خود کش حملوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا ۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی طور پر دہشتگردی کیلئے موافق فضا موجود ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ۔

گزشتہ سال دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا ۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے ۔ تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں  ان کی پرورش کی جارہی ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کئے جن میں سے ایک بھی پورا نہ کیا گیا ہے افغان گروپ نے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائےگا۔

ہم دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتیں گے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی میں ملوث افغانیوں کی ویڈیوز سامنے لے آئے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز صرف دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہیں۔ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ کافی عرصہ سے چل رہا ہے

پاکستان کیخلاف طالبان، ہندوستان اور خوارج کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا، تمام پردہ نشین بے نقاب ہوگئے ۔ پاکستان میں بھی ان کے حواری سامنے آگئے ہیں ۔ باریک وارداتیے بھی سامنے آگئے ۔ ڈاکٹر عثمان قاضی نامی پروفیسر دہشتگردوں کا سہولت کار نکل آیا ۔ اس کے حق میں بولنے والے اس کے سہولت کار بھی سامنے آگئے

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈرلایا گیا، شام سے2ہزار500دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے،

شام سے افغانستان منتقل ہونیوالے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں،ڈی جی افغان بارڈربندکرنے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرزعمل کے مطابق منظم کیا، فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگادیا،

افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بنا کرپیش کرتا ہے، افغانستان دہشت گردوں کو براہ راست اسپورٹ کررہا ہے، افغانستان وار اکانومی کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واراکانومی کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے، افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا،

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکومادو۔

ترجمان پاک افواج نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیررگٹھ جوڑ موجود ہے، خیبرپختونخوا کی بنیادپر206انٹیلی جنس آپریشن کئے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top