اسلام آباد: پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر عوام اور ملک کے چوکس سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر قابلِ نفرت دشمن کا پروپیگنڈا نیٹ ورک متحرک ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج جائز مگز دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے، سپریم لیڈر
ایران کے سپریم لیڈر سے متعلق جھوٹے اور مضحکہ خیز الزامات کو دو ٹوک مسترد کرتا ہوں۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کے دانشمند، دلیر اور ثابت قدم رہبر ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ایرانی سپریم لیڈر عوام اور ملک کے چوکس سکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل دہشت گردی، غلط معلومات اور اخلاقی بددیانتی عام ہو چکی ہے۔
ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی رائفل تھامے تصویر بھی جاری کر دی۔
یاد رہے کہ برطانوی اخبار دی ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری مظاہروں اور حکومتی دباؤ کے پیشِ نظر پلان بی تیار کیا ہے جس کے تحت وہ انتہائی حالات میں ایران چھوڑ کر روس جاسکتے ہیں۔
برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہلِ خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایران سے روس منتقل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مظاہرین پر تشدد کیا تو مداخلت کرینگے،ٹرمپ،جواب دینگے،ایران کاانتباہ
انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ماسکو کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ سابق شامی صدر بشار الاسد نے کیا تھا۔روسی حمایت اور سفارتی تعلقات اس انتخاب میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایران میں مہنگائی، کرنسی کی قیمت میں کمی، بے روزگاری، اور امریکی پابندیوں کے باعث عوام پر اضطراب بڑھ رہا ہے، جس نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا ہے۔




