ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق بنگلہ دیش کے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے میچز کی میزبانی کسی اور ملک میں کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق آئی سی سی اس امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے کسی متبادل ملک میں کرائے جائیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے دی گئی درخواست کو زیرِ غور لا چکی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق میچز کی میزبانی میں تبدیلی ممکن ہے اور اس حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے باضابطہ طور پر مؤقف پیش کیا ہے، جس کی بنیاد پر یہ معاملہ اب انتظامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کی سرکاری چھٹی کے باعث آئی سی سی کا اہم اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں اجلاس بلا کر اس معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ آئی سی سی کے اعلیٰ حکام بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مؤقف اور سیکیورٹی خدشات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ صورتحال کے مطابق مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 7 رنز دیکر8 وکٹیں، بھوٹانی بولر نے ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ بدل دی،عالمی ریکارڈ قائم
بھارتی میڈیا کے مطابق اگر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو بنگلہ دیش کے میچز سری لنکا منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا میں متبادل انتظامات اور سیکیورٹی کے حوالے سے صورتحال کو زیادہ موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سری لنکا کو بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کا تجربہ بھی حاصل ہے، جس کے باعث آئی سی سی کے لیے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کی قومی ٹیم آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ نہیں کرے گی۔ اس مؤقف کے سامنے آنے کے بعد ٹورنامنٹ کے شیڈول اور مقامات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس نے منتظمین اور ٹیموں کو متبادل آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شیڈول تبدیل کرنا ناممکن، بھارتی کرکٹ بورڈ، بنگلہ دیش بھی ڈٹ گیا
کرکٹ حلقوں کے مطابق آئی سی سی کا حتمی فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ ٹورنامنٹ میں شامل دیگر ٹیموں کے شیڈول پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ شائقینِ کرکٹ کی نظریں آئی سی سی کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں اس معاملے پر باضابطہ اعلان متوقع ہے۔




