اسلام آباد:آزادکشمیر کے موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ مہاجرممبران اسمبلی کابینہ میں شامل نہیں ہونگے جو پورا کیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں عبدالوحید کا کہنا تھا کہ اس پر حکومت کے ترجمان دے بھی چکے ہیں، جہاں تک میں سمجھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں گی یا نہیں یہ طے کیا جا نا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاجرین نشستوں کے مستقبل بارے اسلام آباد میں بڑی بیٹھک، عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران غائب
انہوں نے کہا کہ جہاں تک مہاجریں کو قائمہ کمیٹیوں میں شامل کئے جانے کی بات ہے تو وہ ابھی تک ایوان کےممبر ہیں ان سے یہ حق نہیں چھینا جا سکتا ،انہیں یہ ذمہ داری حکومت نے ایوان نے دی ہے۔
میاں وحید کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بتانا چاہیے تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کیسے ہوئی ، یقیناً ہم انسان ہیں غلطی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز مہاجرین جموں وکشمیر کی اسمبلی میں نشستوں سے متعلق کمیٹی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا لیکن اس میں ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔
جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ مہاجرین ممبران اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین کی مراعات وزیر کے برابر ہیں۔
حکومت کی طرف سے مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل کے فیصلہ سے متعلق کمیٹی قائم کی تھی جس میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماسردار طاہرانور شامل تھے جن پر اعتراض کیا گیا جس پر وہ دستبردار ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ حکومتی معاہدے پر عملدرآمد کی تفصیلات سامنے آگئیں
جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کی عدم شرکت پر مذاکرات سبوتاژ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے




