اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک کے 5 بڑے ہیں ان کے درمیان اعتماد بڑھانے کیلئے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جس طرح 2025 میں اچھی خبریں آئیں، امید ہے 2026 مزید معاشی استحکام کا سال ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے ان کو بند کیا جانا چاہیے، پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑاسکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول اور تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنجیدہ تجاویز کیساتھ سپیکر کے دفتر آجائیں، حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کو ان اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی اختیار کر کے بند کرنا چاہیے، اگران اکاؤنٹس سے صرف پروپیگنڈا ہی کرنا ہے تو مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے خلاف کریں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 8 فروری کی اپیل ناکام ہوگی، پی ٹی آئی پہیہ جام نہیں کرپائےگی اور اس کے مزید نقصانات ہوں گے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 8 فروری کو پہیہ جام کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کو ایسا دھرلیا جائے گا کہ یہ پھر گلہ کریں گے، پی ٹی آئی احتجاج کی کال کو واپس لے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 5 بڑے ہیں ان کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں، رابطہ ہونا چاہیے، اگر یہ رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان 5 بڑوں میں نوازشریف، شہبازشریف،آصف زرداری، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ایک اور شخصیت ہیں۔
جب تک ان 5 شخصیات کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات نہیں ہوں گے تو بریک تھرو نہیں ہوگا، میرے اور عامر ڈوگر کے رابطوں سے بریک تھرو نہیں ہوگا۔
5 بڑوں کی ملاقات ہوجائے تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہو جائے، ملک عامر ڈوگر
اس موقع پر تحریک انصاف کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ 5 بڑوں کی ملاقات ہوجائے تو پھر تو جھگڑا ہی ختم ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ آج نہیں تو کل ایسا ہوجائے، سیاست میں دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔
سیاست کو سیاسی مخالفین تک رکھنا چاہیے، ریاستی اداروں کے خلاف کردار کشی کی مہم بند ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیخلاف غداری کے مقدمے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا،راناثنا
ملک عامر ڈوگر کا مزید کہنا تھا کہ اعتماد سازی کے لیے بانی سے ہمارے اتحادی ایم ڈبلیو ایم کے راجا ناصر عباس اور تحفظ آئین پاکستان کے محمود خان اچکزئی کی ملاقات کروائی جائے۔
رانا ثناءاللّہ آگے بڑھیں اور ایسا ماحول پیدا کریں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان سے زمینی حقائق پر بات اور مشاورت کرنے دیں۔
حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دے، اس پیشکش پر اللّہ کرے کوئی راستہ نکل آئے۔




