اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کردیا۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ردوبدل کردیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 10روپے 28 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہو گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے 57 پیسے کمی کردی گئی ہے اور فی لیٹر نئی قیمت 257 روپے 8 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 265 روپے 65 پیسے تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر،گلگت بلتستان، مری ،اسلام آباد میں بارش، پہاڑوں پربرفباری
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔نئی قیمت 253 روپے 17 پیسے مقرر کردی گئی ہے ۔ ڈیزل کی قیمت 258 روپے 8 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12بجے سے ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ15 دسمبر کو وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے کی کمی کی گئی تھی اور یکم نومبر کو پیٹرول کی قیمت میں2روپے اور ڈیزل کی قیمت میں4 روپے 79 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی معطلی سے عوام کو فوری ریلیف فراہم ہوگا۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنا ہے، تاہم پیٹرولیم لیویز اور کلائمیٹ سپورٹ جیسے دیگر ٹیکس بدستور برقرار رکھے گئے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں مالی توازن قائم رکھا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عام صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی معطلی سے عوام کے روزمرہ اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل کے شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جس کا فائدہ بالآخر عام صارفین تک پہنچے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں میں کمی کاروباری سرگرمیوں اور درآمدات کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگی۔ عوام نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے نئے سال کی خوشخبری قرار دیا ہے ۔




