مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل ) آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ افتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی اکثریت شرائط کی حکومتی منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔۔
مہاجرین کی نشستوں والی شرط پر حکومت پاکستان کی جانب سے قائم کی جانے والی کمیٹی خوش آئند اقدام ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ذاتی اور مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیرہوچکا،سی ڈی ایف و فیلڈ مارشل عاصم منیر
راجہ افتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ معاہدہ کے تحت جو بہتری آ رہی ہے اس کو آنے دیں بلا وجہ اعتراض سے تنازع کی فضا نہ بنائیں کہ یہ بہتری کا عمل رک جائے ۔

آزاد کشمیر تحریک آزادہ کشمیر کا بیس کیمپ ہے ۔آزاد کشمیر میں بد امنی کی فضا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے اندر جاری جدوجہد آزادی کی تحریک میں لاکھوں کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اسے کسی صورت سبوتاژ کرنے کی گہناونی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے مظفرآباد میں سپریم کورٹ بار انتظامیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض ممبران کی ٹیوٹ جس میں پاکستان مخالف مواد موجود ہے وہ کسی صورت صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شادی شدہ لڑکی کا قتل دبانے کی کوشش ناکام، خواتین سمیت5 افراد گرفتار
راجہ افتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جن مقاصد کیلئے بنائی گئی تھی اگر اسی پر فوکس کرے تو بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔۔
انھوں نے کہا کہ آزاد خطہ کے لوگ کسی صورت پاکستان اور پاکستان کے مفادات کے خلاف سوچ بھی نہیں سکتے ۔ پاکستان کی مسلح افواج آزاد خطہ کے عوام کی عزت مال اور سرحدوں کی محافظ ہے ۔۔
پاک فوج کے خلاف ہزاسرائی دشمن کے مقاصد کی تکمیل ہے انھوں نے کہا کہ حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اعتماد کی فضا برقرار رکھنی چاہے آزاد کشمیر کا خطہ کسی بد امنی افراتفری یا انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔۔
راجہ افتاب احمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا پڑا تو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔




