شیخ زید بن سلطان النہیان کا پاکستان سے تعلق محض سفارتی یا رسمی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ یہ رشتہ وقت کے ساتھ ایک گہرے، سماجی اور فلاحی تعلق میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ خاص طور پر پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان کو اس تعلق میں ایک مرکزی حیثیت حاصل رہی، جہاں شیخ زید نہ صرف بارہا آئے بلکہ طویل قیام بھی کیا۔
بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ رحیم یار خان میں ان کے دوروں کا آغاز شکار کے شوق سے ہوا، مگر جلد ہی یہ آمد و رفت مقامی لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے لگی۔ یہاں ہونے والی ایک اونٹوں کی ریس کے بعد ایک غریب شخص مومن کی زندگی میں آنے والی تبدیلی اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس واقعے میں ایک ریس جیتنے والے عام شہری کو ایسا انعام ملا جس نے اس کی معاشی حالت کو یکسر بدل دیا اور وہ زمین کا مالک بن گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ شیخ زید کا رحیم یار خان سے تعلق مزید مضبوط ہوتا گیا۔ انہوں نے اس علاقے کو اپنا ’’دوسرا گھر‘‘ قرار دیا اور یہاں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں میں دلچسپی لی۔ شیخ زید ہسپتال، میڈیکل کالج، سکول، ایئرپورٹ اور سڑکوں جیسے منصوبوں نے نہ صرف شہر بلکہ گرد و نواح کے علاقوں کو بھی فائدہ پہنچایا۔

شیخ زید کی جانب سے بنجر اور ریگستانی زمین کو قابلِ استعمال بنانے کے اقدامات بھی کیے گئے۔ پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر سہولیات نے صحرا سے جڑی آبادیوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔ اس ترقی کے نتیجے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات بہتر ہوئیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

رحیم یار خان میں ان کے قیام کے دوران مقامی انتظامیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جایا کرتی تھیں۔ بعض مواقع پر ان کے طویل دوروں کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سرگرمیاں بھی اسی علاقے میں ہوئیں، جس سے شہر کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی یو اے ای صدر کو شاندار فضائی سلامی
صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری نے رحیم یار خان کو ایک علاقائی طبی مرکز کی حیثیت دی، جہاں سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بھی مریض علاج کے لیے آنے لگے۔ جدید سہولیات، ماہر ڈاکٹرز اور بہتر انفراسٹرکچر نے اس شہر کو جنوبی پنجاب میں ایک منفرد مقام دلایا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شیخ زید النہیان کا پاکستان سے تعلق شکار یا وقتی قیام تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ تعلق فلاح، ترقی اور عوامی بہتری سے جڑا ایک ایسا رشتہ بن گیا جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔




