ڈھاکا:بنگلادیش میں فروری 2026 میں شیڈول انتخابات کے لیے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور انقلابی طلبہ پر مشتمل نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 8 جماعتی اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے جمعرات کو ڈھاکا میں پریس کانفرنس کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: طارق رحمان کی 17سال بعد بنگلہ دیش واپسی، شاندار استقبال، امن کا پیغام دیدیا
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی زیر قیات اتحاد کی جانب سے تمام 300 حلقوں کے لیے امیدواروں کی فہرست مشاورت کے ذریعے تقریباً مکمل کرلی گئی ہے جبکہ باقی کام کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے بعد منصفانہ طریقے سے مکمل کیا جائیگا۔
طلبہ کی پارٹی نیشنل سٹیزن پارٹی کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر نے بتایا کہ وقت کی کمی کے باعث این سی پی کی قیادت پریس بریفنگ میں شریک نہ ہو سکی تاہم انہوں نے اتحاد میں شمولیت کے فیصلے سے واضح طور پر آگاہ کردیا ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی جولائی 2024 کے طلباء احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کی تشکیل کردہ پارٹی ہے، جس نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ بنگلادیش میں عام انتخابات کے لیے 12 فروری 2026 کی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے اور ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش میں انقلاب منچہ کادھرنا،شاہ باغ کو بلاک کر دیا
بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان بھی گزشتہ دنوں 17 سالہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلادیش لوٹے ہیں۔
طارق رحمان کو بنگلادیش کے مستقبل کے وزیر اعظم کے لیے مضبوط امیدواروں میں سے ایک سمجھا جارہا ہے۔




