ترکیہ میں 42 ہزار افغانوں سمیت ڈیڑھ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن گرفتار

انقرہ: ترکیہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران غیر قانونی تارکین وطن افراد کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی جس کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ترک مائیگریشن اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان گرفتار افراد میں افغان تارکین وطن سب سے زیادہ تھے جن کی تعداد 42 ہزار سے زائد تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ترکیہ کا سچا، قابلِ اعتماد اور کھرا اتحادی ہے : صدر رجب طیب اردوان

افغان شہریوں کے بعد سب سے زیادہ گرفتاریاں شامی شہریوں کی ہوئیں، جبکہ ازبکستان، ترکمانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں حراست میں لیے گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر غیر قانونی تارکین وطن افراد کی گرفتاریوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔

2024 میں ترکیے بھر میں 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 10,883 افراد کو انسانی اسمگلنگ (Human Trafficking) کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا۔

ترکیہ کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ایک اہم راستہ بناتا ہے جہاں سے بہت سے غیر قانونی تارکین وطن یورپ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پڑوسی ممالک خاص طور پر افغانستان، ایران، عراق اور مشرق وسطیٰ سے لوگ ترکیہ کے راستے یورپ تک جانا چاہتے ہیں۔

ترک حکام نے چیک پوائنٹس، سڑکوں، شاہراہوں اور شہروں میں ناکہ بندیوں کے ذریعے سخت نگرانی کی ہے، جس کے باعث بہت سے غیر قانونی تارکین وطن کو روکا اور پکڑا گیا ہے۔

یہ بھہ  پڑھیں: ترکیہ میں عالمی کانفرنس میں 300 مندوبین نے کشمیر پر قرارداد منظور کی

Scroll to Top