سبق یاد کیوں نہیں کیا؟ٹیچر نے کمسن بچے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، والدین کی دہائی

چناری (کشمیر ڈیجیٹل رپورٹ )جہلم ویلی کے چناری کے مضافاتی علاقے گورنمنٹ بوائز مڈل سکول بانڈی چکاں میں سبق یاد نہ کرنے پر ٹیچر نے چوتھی جماعت کے بچے پرجسمانی تشدد بچے کے کان کے پردے بری طرح متاثر ہو گئے ۔

چناری کے مضافاتی علاقے بانڈی چکاں میں واقع ایک سرکاری سکول میں سبق یاد نہ کرنے پر ایک استاد جس کا نام محمد آصف بتایا جاتا ہے نے چوتھی جماعت کے کمسن طالب علم قاسم کبیر پر بدترین جسمانی تشدد کرکے بچے کے کان کو شدید نقصان پہنچایا ۔۔

اس واقعے پر بچے کے عزیز اوقاب نے متعلقہ ٹیچر کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ادارہ کے صدرمعلم محمد عارف کو رجوع کیا تو ادارہ کے صدر معلم نے بھی آئیں شائیں بائیں کرکے معاملہ ٹال دیا۔۔

صدر معلم کی جانب سے بچے کا علاج معالجے خود کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی مگر ورثا بچے کو خود ڈاکٹر کے پاس لے گئے جہاں ڈاکٹر نے بچے کے کان کے ٹیسٹ وغیرہ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ تشدد کے باعث بچے کے کان کے پردے متاتر ہوئے ہیں

واقعہ پر بچے کے ورثا عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔۔

تشدد بے حد ممنوع ہے اور ایسے واقعات کے کی روک تھام کیلئے ٹیچر کے خلاف محکمہ تعلیم کے آفیسران فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائیں ۔۔

عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے خلاف تشدد کا نشانہ بنانے والے ٹیچر کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن قوانین کے تحت کارروائی کی جانی چاہئے

عوامی حلقوں نے وزیر تعلیم سکولز سیکرٹری تعلیم سکولز ڈسڑکٹ ایجوکیشن آفیسر جہلم ویلی سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طورپر ٹیچر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Scroll to Top