بھارتی ریاست آسام میں ایک مرتبہ پھر حالات سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں پولیس کی سخت کارروائی اور عوامی احتجاج کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد شہری زخمی ہو گئے۔متاثرہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر کے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔
واقعہ آسام کے ضلع کاربی آنگ لانگ میں پیش آیا، جہاں قبائلی زمینوں پر سرکاری سرپرستی میں ہونے والی تجاوزات کے خلاف مقامی آبادی سڑکوں پر نکل آئی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں ہائی کمیشن کے باہر احتجاج ، دھمکیوں پر بنگلہ دیش نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرلیا
عینی شاہدین اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے حکومت کی زمین پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ ان کی آبائی اور قبائلی زمینیں زبردستی چھینی جا رہی ہیں۔
کئی سیاسی اور سماجی تنظیموں کے کارکنان گزشتہ 15 دنوں سے بھوک ہڑتال کر رہے تھے، جو غیر قانونی آباد کاروں کو جو زیادہ تر بہار سے تعلق رکھتے تھے کو بے دخل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں کو آگ لگا دی جبکہ ایک بی جے پی رہنما کے گھر کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔ اس دوران پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا۔
بھارتی پولیس نے احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
نیوزویب سائٹ انڈیا ڈاٹ کام کے مطابق جھڑپوں میں آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس بھی زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔ کئی افسران کی حالت تشویش ناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غلطی سے کنٹرول لائن کراس کرنیوالی خاتون واپس حوالے، بھارتی میڈیا کا زہریلا پروپیگنڈا بے نقاب
پولیس کے ڈائریکٹر جنرل برمیت سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ 38 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ نے علاقے میں حالات قابو میں کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنے کا حکم دیدیا۔




