انقرہ (کشمیر ڈیجیٹل) لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد احمد الحداد کا طیارہ برقی نظام میں خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ترک حکام نے طیارہ حادثے کی تصدیق کردی ۔
ترکیہ کے صدارتی شعبہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے بتایا کہ حادثے سے قبل طیارے نے ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور کو برقی خرابی کے باعث ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا تھا اور فوری لینڈنگ کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عملے نے انقرہ کے ایسن بوگا ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کا فیصلہ کیا تاہم واپسی کے دوران طیارے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
ترک وزیر انصاف یلماز طنج نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے پراسیکیوٹر جنرل آفس نے حادثے کی وجوہات جاننےکیلئے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
Libya’s army chief and four other senior military officials killed in a plane crash near Ankara, Turkey. The aircraft reportedly lost contact shortly after takeoff. Turkish authorities have launched an investigation as footage of the crash circulates online. #PlaneCrash pic.twitter.com/RNEb0eo5II
— Sapna Madan (@sapnamadan) December 24, 2025
طیاروں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق پرواز نے ابتدا میں بلندی حاصل کی، تاہم اچانک اس کی اونچائی میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور پرواز کے صرف 16 منٹ بعد طیارہ ریڈار سے غائب ہو گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان نے بھارت کووہ سبق سکھایا جووہ ہمیشہ یاد رکھے گا،وزیراعظم شہباز شریف
ترک میڈیا کے مطابق جس علاقے میں طیارہ لاپتا ہوا وہاں دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، جس کے بعد ریسکیو کارروائی شروع کر دی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی ایچ او جہلم ویلی کی تمام تقرریاں کالعدم قرار:ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
لیبیا کی عبوری حکومت کے سربراہ عبد الحمید الدبیبہ نے جنرل محمد احمد الحداد کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں دیگر اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام بھی جاں بحق ہوئے۔
حادثے کے حوالے سے کچھ ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں لیکن ان کی ابھی تک آفیشل تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل الفیتوری غریبیل، بریگیڈیئر محمود القطيوی، محمد العصاوی دیاب اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل ہیں۔
لیبیا کی وزارت دفاع کا ایک وفد حادثے کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کے روز انقرہ پہنچے گا۔




