انقرہ:ترکیہ میں طیارہ اڑان بھرنے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا،طیارے میں لیبیا کے آرمی چیف جنرل محمد علی الحداد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لیبیا کے جنرل محمد علی الحداد نے ترکیہ کا دورہ کرکے ترکیہ کے وزیردفاع سے ملاقات کی تھی لیکن جب وہ واپس روانہ ہوئے تو ان کا طیارہ تباہ ہوگیا۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ایسن بوغا ائیرپورٹ سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے لیے اڑان بھرنے والے والے طیارے میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔
اڑان بھرنے کے 30 منٹ بعد طیارہ کا ائیرٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد طیارے نے دوبارہ انقرہ کی جانب رخ موڑنے کی کوشش کی تاہم لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا۔
طیارے میں لیبیا کے چیف آف اسٹاف سمیت 5 افراد سوار تھے۔ لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے آرمی چیف کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیںـ: شمالی کیرولینا : ہوائی اڈے پر طیارہ گر کر تباہ، متعدد افراد ہلاک
وزیراعظم کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بری افواج کے چیف آف اسٹاف، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ، آرمی چیف کے مشیر اور میڈیا آفس کے فوٹوگرافر بھی شامل ہیں۔
انہوں نے اس واقعے کو ملک اور مسلح افواج کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیبیا نے ایسے افراد کھو دیے ہیں جنہوں نے خلوص، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔
وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ، فوجی ساتھیوں اور لیبیا کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ لیبیا جانے والا نجی طیارہ جس میں لیبیا کے آرمی چیف سوار تھے انقرہ کے ضلع حایمانا میں گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس کا ملبہ مل گیا ہے۔
ترک وزیرداخلہ کے مطابق طیارہ انقرہ ایسن بوغا ہوائی اڈے سے طرابلس کیلئے شام 8 بجکر 10 منٹ پر روانہ ہوا اور 8 بجکر 52 منٹ پر اس کا رابطہ منقطع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی فوجی طیارہ فضا میں ہی بکھر گیا،تمام سوار افراد ہلاک
اس سے قبل ترک حکام نے بتایا تھا کہ ایسن بوغا ہوائی اڈہ پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، طیارے کی جانب سے حیمانہ کے قریب ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع ملی تھی۔
ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع کے بعد طیارے سے دوبارہ رابطہ قائم نہ ہو سکا۔




