ملک بھر کے چھوٹےکسانوں کیلئے10 لاکھ روپے تک آسان قرض سکیم متعارف

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رسمی مالیات سے باہر رہنے والے 93 فیصد چھوٹے کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے زرخیز ای کے نام سے زرعی قرضے کے پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔

مزارع کسانوں کے لیے 5 لاکھ روپے تک اور زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بینکوں کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری کیلئے دئیے جانے والے قرضوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

اس پروگرام کو مساوی علاقائی بنیادوں پر مرتب کیا گیا ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ و پنجاب کے محروم علاقوں کے کسانوں کو یکساں طور پر یہ سہولت میسر ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ کسانوں کے لیے بلا ضمانت اور ڈیجیٹل طور پر فعال زرعی قرضہ اسکیم ہے اور یہ اسکیم ان 93 فیصد چھوٹے کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے شروع کی گئی ہے جو طویل عرصے سے رسمی مالیاتی نظام سے باہر تھے۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ پروگرام کوئی معمولی یا تدریجی اقدام نہیں بلکہ ایک بنیادی اور ڈھانچہ جاتی تصحیح ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان 7 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائیگا جو پہلے اس نظام کا حصہ نہیں بن سکے تھے۔

آئندہ تین برسوں میں پروگرام کے تحت دیہی معیشت میں 300 ارب روپے کا بہاؤ آئے گا۔ ان کسانوں کے لیے قرضے کی فراہمی میں ضمانت کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاکہ قرض زمین کی ملکیت کے بجائے صلاحیت کی بنیاد پر دیا جائے اور سرخ فیتے کی جگہ ڈیجیٹل ایگرونومی، سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصدیق شدہ شناختی نظام لے سکیں۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زرعی قرضوں کا نظام تاریخی طور پر ایکویٹی کے بجائے پیمانے کو ترجیح دیتا رہا ہے اور 7 فیصد کسان و کاشتکار مجموعی زرعی قرضوں کا 68 فیصد حصہ لے رہے تھے۔

نئے پروگرام سے اس نظام کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پروگرام میں وقار کے ساتھ مالیاتی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور اب کسانوں کو بلا ضمانت قرضے دیے جائیں گے۔پروگرام کے تحت زندگی اور فصل کے لیے بیمہ کی سہولت میسر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی خریداری کیلئے قرضے کی فراہمی میں ریکارڈ اضافہ

وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا کہ زرخیز ای محض ایک قرضہ اسکیم نہیں بلکہ یہ مڈل مین سے کسانوں کی طرف اختیارات کی منتقلی، غیر رسمی نظام سے مالی شمولیت اور بقا سے خوشحالی کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ مضبوط اور خوشحال پاکستان کی منزل تب حاصل ہوگی جب چھوٹے کسان اور کاشتکار خوشحال ہوں گے۔

پروگرام کے تحت کسانوں کو استحصالی آڑھتی قرضوں سے نجات دلائی جائے گی، جس سے غربت میں کمی ہوگی۔ معیاری زرعی مداخل کی فراہمی کے ذریعے زیادہ پیداوار کے ذریعے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے اس سلسلے میں بینکاری شعبہ کے اجتماعی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ، ”بینکنگ انڈسٹری، زرخیزی ایپ کے کامیاب نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔

ہم وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ ملک بھر کے کسانوں تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور طریقہ کار کوآسان بنایا جا سکے۔

Scroll to Top