پانی

نیلم جہلم پروجیکٹ کی بحالی کا کام شروع کرنے کی ہدایت،2سال تک بحالی کا امکان

اسلام آباد: ڈیڑھ سال سے بند نیلم جہلم پروجیکٹ کی بحالی کا کام جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر پروجیکٹ انتظامیہ نے پیشکش قبولیت کا لیٹر تیار کرلیا۔

سستی بجلی کے مہنگے اور ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے بند پن بجلی منصوبےکی بحالی پر جلد پیش رفت کا امکان ہے، وزیر اعظم نے منصوبے پر جلد کام مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

ذرائع وزارت آبی وسائل کے مطابق داسو منصوبے پر کام کرنے والی غیرملکی کمپنی کو بحالی کا ٹھیکہ دیا جائے گا۔ نیلم جہلم منصوبے کی بحالی میں مزید ڈیڑھ سے دو سال لگ سکتے ہیں۔

969 میگا واٹ کا پن بجلی منصوبہ 5 ارب ڈالرز سے زائد کی لاگت سے مکمل کیا گیاتھا۔

2018 میں اپنی پیدوار کا آغاز کرنے والے اس منصوبے کو چار سال بعد جولائی 2022 میں اس وقت عارضی بندش کا سامنا کرنا پڑا جب تین اعشاریہ 55 کلومیٹر ٹیل ریس ٹنل میں دراڑ پڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ،آڈیٹر جنرل آف پاکستان نےحکومتی ناکامی کاپول کھول دیا

ٹیل ریس ٹنل کی مرمت پر تقریباً 14 مہینے لگے اور ستمبر 2023 میں اس پراجیکٹ نے دوبارہ پیدوار کا آغاز کیا،اس پراجیکٹ نے پہلی تکنیکی خرابی کے بعد مارچ 2024 میں مکمل پیداواری صلاحیت یعنی 969 میگا واٹ دوبارہ حاصل کی۔

16 اپریل 2024 کو ایک بار پھر اس پراجیکٹ کو فنی خرابی کے باعث بند کرنا پڑا اور بندش پر اس پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل بھی رک گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ نے 2018 سے اب تک 18 ارب بجلی کے یونٹس پیدا کیے ہیں۔ ان بجلی کے یونٹس کی یومیہ اوسط تقریباً 98 لاکھ یونٹس بنتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت کی مختلف سلیبز ہیں۔ ان تمام سلیبز کی اوسط تقریباً 30 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ اگر 30 روپے فی یونٹ کے حساب سے یومیہ نقصان کا اندازہ لگایا جائے تو نیلم جہلم پراجیکٹ کی یومیہ بندش سے تقریباً 29 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

کروڑوں کے روانہ نقصان کے باوجود اس اہم منصوبے کی خرابی کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔

Scroll to Top