اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار، مطالبات پیش کردیئے

اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کردیا۔

اپوزیشن اتحاد کی قومی مشاورتی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ن لیگ کاوزیر اعظم کا ووٹ دیکر اپوزیشن میں بیٹھنا حوصلہ افزاروش نہیں،انوارالحق

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے نئے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا بھی مطالبہ کیا گیا، مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ جمہوریت کی عمارت شفاف انتخابات پر کھڑی ہے اور ہم نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔

اعلامیہ میں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے کہا گیا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی اور پیکا کا کالا قانون ختم کی جائے ۔ اعلامیے میں ملک میں بڑھتی مہنگائی اور ٹیکسز میں بھی کمی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے امن جرگے کے متفقہ لائحہ عمل پر عمل کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں اس کا حصہ دینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ معدنیات سے متعلق صوبے کی عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقل نہیں کیا جارہا،رانا ثناءاللہ

اپوزیشن اتحاد نے اسٹوڈنٹس یونین پر عائد پابندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ااور کہا گیا کہ ہم صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مشاورتی کانفرنسز کا اہتمام کریں گے۔

Scroll to Top