ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل)جہلم ویلی یونیورسٹی کیمپس کی عدم تعمیر، زمین کی عدم فراہمی اور مکانیت کے دیرینہ مسئلے کے حل نہ ہونے کے خلاف طلبہ نے ہٹیاں بالا میں ایک بھرپور احتجاجی مارچ کیا۔
طلباء کےاحتجاجی مارچ میں پاکستان تحریکِ انصاف آزاد کشمیر کے نائب صدر اور نوجوان سیاسی قائد سید ذیشان حیدر نے خصوصی شرکت کی اور طلبہ سے خطاب کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:توشہ خانہ ٹو کیس، پی ٹی آئی کے غیر منصفانہ ٹرائل کے دعوے ثبوتوں کے ساتھ مسترد
اپنے خطاب میں سید ذیشان حیدر نے کہا کہ جہلم ویلی جیسے پسماندہ اور دور افتادہ ضلع میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام کوئی احسان نہیں بلکہ طلبہ کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں گزرنے کے باوجود کیمپس کی تعمیر، زمین کے حصول اور مستقل مکانیت کے مسائل حل نہ ہونا حکومتی نااہلی، عدم دلچسپی اور تعلیم دشمن پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور جہلم ویلی سے منتخب ایم ایل اے صاحبان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے نمائندے محض وعدوں اور اعلانات تک محدود ہیں جبکہ عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے نام پر سیاست کرنا اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیںـ:لیونل میسی کیلئے امبانی کا 36 کروڑ 40 لاکھ روپے کی نایاب گھڑی کا تحفہ
سید ذیشان حیدر نے واضح اعلان کیا کہ وہ طلبہ کی اس جائز جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب تک جہلم ویلی یونیورسٹی کیمپس کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوتا، یہ تحریک جاری رہے گی۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ منظم رہیں، اپنی قیادت خود تیار کریں اور پرامن مگر بھرپور انداز میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ “تعلیم کش پالیسیاں ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔ جہلم ویلی کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم رکھنے کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔”
احتجاجی مارچ میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور یونیورسٹی کیمپس کی فوری تعمیر، زمین کی فراہمی اور مستقل مکانیت کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
اختتام پر سید ذیشان حیدر نے طلبہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جہلم ویلی کے نوجوانوں کا مستقبل روشن بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔




