حویلی (کشمیر ڈیجیٹل) میں ناقص آٹے کا سنگین بحران، عوامی صحت داؤ پر لگ گئی، وزیراعظم آزاد کشمیر سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ
وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے حلقہ انتخاب ڈسٹرکٹ حویلی بالخصوص کہوٹہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں سرکاری کوٹہ کے تحت فراہم کیے جانے والے آٹے کا معیار انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔
عوامی سطح پر موصول ہونے والی مسلسل شکایات کے مطابق حویلی میں سپلائی کیا جانے والا آٹا غیر معیاری، ناقص اور صحتِ کیلئے خطرناک ثابت ہونے لگا
، مضر صحت آٹے کے باعث سینکڑوں شہری مختلف معدے اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد،راولپنڈی میں دفعہ 144 میں ایک بار پھر توسیع، نوٹیفکیشن جاری
عوام کا کہنا ہے کہ فراہم کردہ آٹے کا رنگ غیر فطری طور پر کالا ہے، آٹے میں جگہ جگہ سخت ڈھیلے اور گٹھلیاں موجود ہیں جبکہ پکانے کے بعد روٹیاں مکمل طور پر سیاہ ہو جاتی ہیں، جو واضح طور پر پرانی، خراب اور غیر محفوظ گندم کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہ
ے۔ شہریوں کے مطابق مذکورہ آٹا جس فلور مل سے حویلی کے لیے سپلائی کیا جا رہا ہے، وہاں انتہائی سستے داموں ناقص اور باسی گندم خرید کر اس کا غیر معیاری آٹا تیار کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اسے مہنگے داموں فروخت کر کے حویلی کے عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ ناقص آٹے کی فراہمی کے باعث عوامی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، متعدد خاندانوں میں بچوں، بزرگوں اور خواتین کو پیٹ، معدے اور دیگر بیماریوں کا سامنا ہے
، تاہم جب اس سنگین مسئلے پر متعلقہ محکموں اور دفاتر سے رجوع کیا گیا تو ذمہ داران واضح اور تسلی بخش جواب دینے سے قاصر نظر آئے، جو انتظامی غفلت اور ممکنہ ملی بھگت پر سوالیہ نشان ہے۔
ڈسٹرکٹ حویلی کے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین عوامی مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ناقص آٹے کی ترسیل فی الفور بند کروائیں،
متعلقہ فلور ملز، سپلائی چین اور ذمہ دار افسران کے خلاف شفاف تحقیقات کے بعد سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور حویلی کے عوام کے لیے معیاری، صاف، صحت کے عالمی اصولوں کے مطابق آٹے کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے حلقہ انتخاب بلکہ آزاد کشمیر بھر میں عوامی صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عملی اقدامات کریں گے تاکہ غریب عوام کو غیر معیاری اشیائے خورونوش سے محفوظ رکھا جا سکے اور نظام پر عوام کا اعتماد بحال ھو




