اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبد العلیم خان اور سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان شدید تلخی کلامی کے باعث ماحول تلخ ہوگیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی ، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اجلاس میں دونوں جانب سے ذاتی نوعیت کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ذرائع کے مطابق عبدالعلیم خان نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے الزام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھ سے اس انداز میں بات کرنے کی ۔
اس پر سینیٹر پلوشہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے میں کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور وزیر کا رویہ ناقابل قبول ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ملک میں مہنگائی کا طوفان،17 اشیاء مہنگی،شماریات رپورٹ جاری
انہوں نے کہا کہ اس بدتمیزی کا معاملہ پارٹی سطح پر اٹھایا جائے گا ۔ہنگامہ بڑھنے پر کمیٹی کے دیگر ارکان نے مداخلت کی اور اجلاس کو کچھ دیر کے لیے منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیئرمین کمیٹی کی مداخلت کے بعد وفاقی وزیر نے معذرت کر لی اور معاملہ رفع دفع ہوا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے جس پر عبد العلیم خان نے کہا کہ آپ عزت کریں گے تو ہم آپ کی عزت ہم کریں گے، آپ لوگ ذات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔
عبد العلیم خان نے پلوشہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شٹ اپ جس پر پلوشہ خان نے کہا یو شٹ اپ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی شہریوں کابھارت کیخلاف احتجاج دوسرے روز میں داخل
عبد العلیم خان نے کہا کہ سارے زمانے کے بے ایمان یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔
پلوشہ خان نے کمیٹی چیئر مین سے کہا کہ جو بدتمیزی وزیر نے کی ہے اس پر رولنگ دیں، کیا نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لینا جرم ہے، میں نے سوال پوچھا ہے۔
ارکان کی آپس میں لڑائی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے مداخلت کی اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چیئرمین کمیٹی کے کہنے پر معذرت کر لی۔
اس دوران سینیٹر پرویز رشید سینیٹر پلوشہ خان اور علیم خان کو خاموش کرواتے رہے تاہم سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاو کرانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔




