ڈھاکہ(کشمیرڈیجیٹل)بندگلہ دیشی طلباءرہنما عثمان ہادی کے قتل کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی فوٹیج منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عثمان ہادی پر فائرنگ میں ملوث مشتبہ شوٹرز کی فوٹیج 6 دسمبر 2025 کو بھارت سے بنگلہ دیش میں پٹرپول-بینا پول سرحد عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
بنگلہ دیش پولیس اس واقعے کے بعد ان افراد کو فائرنگ کے اہم مشتبہ ملزمان کے طور پر تلاش کر رہی ہے۔
انڈیا مخالف عثمان ہادی کون تھے؟
32 سالہ عثمان ہادی ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تحریک کا حصہ تھے اور انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے جہاں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
ہادی نے اعلان کر رکھا تھا کہ انھیں عوامی لیگ کے حامیوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور انھوں نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بھی لکھا تھا۔ بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے اعلان کے فوری بعد ہی ان پر ہونے والے حملے نے بہت سے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
شاہ باغ ڈھاکہ میں بہت بڑا احتجاج جاری
طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف احتجاج میں بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی، نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے pic.twitter.com/SGmzW0Lwd8— Bangla Urdu | بنگلہ اردو (@BanglaUrdu_) December 19, 2025
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی شہریوں کابھارت کیخلاف احتجاج دوسرے روز میں داخل
دوسری جانب بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے شاہ باغ میں عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ایک بڑا احتجاج جاری ہے۔
اس احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ہونیوالے مظاہروں کے دوران بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دریاؤں میں پانی کا معمولی اتار چڑھاؤ، عوام کیلئے کوئی خطرہ نہیں:انڈس واٹر ٹریٹی کمیشن
32 سالہ عثمان ہادی ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تحریک کا حصہ تھے اور انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے جہاں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
عثمان ہادی نے اعلان کر رکھا تھا کہ انہیں عوامی لیگ کے حامیوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں ۔ انھوں نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بھی لکھا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان پہلگام واقعہ میں ملوث نہیں تھا، بھارت نے بین الاقوامی قانون توڑا، جواب دے ،اقوام متحدہ
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے اعلان کے فوری بعد ہی ان پر ہونے والے حملے نے بہت سے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کرنے والی سیاسی تنظیم کے نوجوان رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے
احتجاج کے دوران پرتشدد مناظر بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ عبوری حکومت نے شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ایک روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔




