ڈھاکہ(کشمیر ڈیجیٹل)دارالحکومت ڈھاکا میں سیاسی کارکن عثمان ہادی کے قتل اور ملک میں بھارتی مداخلت کے خلاف بنگلہ دیشی شہریوں کا احتجاج دوسرے روز میں داخل ہو گیا۔
مظاہرین نے بھارت کی سفارتی تنصیبات کے سامنے دھرنا دے دیا، شدید عوامی احتجاج کے باعث بھارتی سفارتخانے میں قائم ویزا سینٹر تاحال بند ہے۔
شاہ باغ ڈھاکہ میں بہت بڑا احتجاج جاری
طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف احتجاج میں بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی، نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے pic.twitter.com/SGmzW0Lwd8— Bangla Urdu | بنگلہ اردو (@BanglaUrdu_) December 19, 2025
احتجاجی مظاہروں کے دوران شیخ حسینہ واجد کی بھارتی سرپرستی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،
مزید یہ بھی پڑھیں:دریاؤں میں پانی کا معمولی اتار چڑھاؤ، عوام کیلئے کوئی خطرہ نہیں:انڈس واٹر ٹریٹی کمیشن
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے لیے وبالِ جان بن چکی ہے۔
بنگلادیشی حکومت نے بھارتی دباؤ اور بالادستی کی تمام سازشوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مودی سرکار کو کھلا چیلنج دے دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر : تعلیمی اداروں میں مرحلہ وار تعطیلات کا اعلان ،نوٹیفکیشن جاری
بنگلادیشی وزارتِ خارجہ نے بھارت سے عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے میں ملوث افراد کو بنگلادیش کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے باضابطہ طور پر جواب طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ ڈھاکا میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے بنگلادیشی سیاسی کارکن عثمان ہادی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔۔۔
عثمان ہادی کو اس حملے سے قبل بھارت کے فون نمبرز سے قتل کی دھمکیاں دیئے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
عثمان ہادی کی موت کی خبر آتے ہی دارالحکومت ڈھاکا شدید احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا، مشتعل مظاہرین نے احتجاج کے دوران ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کے گھر کو نذرِ آتش کر دیا۔




