سڈنی واقعہ،آسٹریلوی وزیراعظم کاانتہاپسندی کیخلاف کریک ڈائون کااعلان

آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے عوام سے نفرت اور انتہاپسندی کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا وعدہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آسٹریلوی عوام صدمے اور غصے میں ہیں، اور وہ خود بھی غصے میں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس برائی کے خلاف مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سڈنی حملہ، بھارت کا جھوٹا پروپیگنڈا زمین بوس، عالمی میڈیا پر پاکستانی مؤقف کی تائید

انہوں نے انتہا پسند مبلغین کے خلاف کارروائی، سخت سزاؤں کے نفاذ اور نفرت و تقسیم پھیلانے والوں کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے جیسے اقدامات کا اعلان کیا۔

کئی ناقدین نے وزیرِاعظم پر تنقید کی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی یہود دشمنی سے تحفظ کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کر رہے۔

وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ نئے سخت نفرت انگیز تقریر کے قوانین ایسے مبلغین اور رہنماؤں کو سزا دیں گے جو نفرت اور تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ایسی تنظیموں کی فہرست بنانے کا نظام تیار کرے گا جن کے رہنما نفرت انگیز تقاریر میں ملوث ہوں۔ نسل کی بنیاد پر تضحیک یا نسلی برتری کی حمایت کو وفاقی جرم بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نفرت اور تقسیم پھیلانے والوں کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کے لیے وزیرِ داخلہ کے اختیارات میں اضافہ کرے گی۔

آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے جس کا بارہ ماہ پر محیط مشن ہوگا کہ تعلیمی نظام میں یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ، مؤثر اور مناسب اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سڈنی حملے میں ملوث بھارتی دہشت گرد ساجد اکرم کا پاسپورٹ منظر عام پر آگیا

ان کا کہنا تھا کہ ’ہر یہودی آسٹریلوی کو اپنی شناخت اور عقیدے پر فخر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہر یہودی آسٹریلوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ، قابلِ قدر محسوس کرے۔

Scroll to Top