ڈھاکہ:بنگلہ دیش کے ایک احتجاجی اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر سیاسی کارکن شریف عثمان ہادی پر حملے میں ملوث افراد اور سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو واپس بنگلہ دیش نہ لایا گیا تو وہ ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن میں زبردستی داخل ہوں گے۔
یہ انتباہ بدھ کے روز جولائی یونٹی کے پلیٹ فارم سے جاری کیا گیاجو جولائی تحریک سے وابستہ مختلف تنظیموں پر مشتمل ہے۔ یہ بیان بھارتی ہائی کمیشن کی جانب مارچ کے اختتام پر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے بغیر پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد ممکن ہے:بنگلہ دیش
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شیخ حسینہ، جنہیں جولائی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے کو فوری طور پر واپس لایا جائے اور انقلابی منچ کے کنوینر شریف عثمان ہادی پر حالیہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے۔
منتظمین کے مطابق اس احتجاجی پروگرام کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ‘بھارتی پراکسی سیاسی قوتیں اور اہلکار’ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی سیاسی بحالی کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔
مارچ سہ پہر 3 بجے ڈھاکہ کے علاقے رام پورہ سے شروع ہوا۔ جب جلوس شام 4 بجے کے قریب بدا کے علاقے حسین مارکیٹ کے نزدیک پہنچا تو پولیس نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اس پر مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دے دیا اور ‘دہلی ہو یا ڈھاکہ، پہلے ڈھاکہ’ اور ‘بھارتی بالادستی نامنظور’ جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے بھارتی اثر و رسوخ کے خلاف پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔
احتجاج میں سابق فوجی افسران، ڈھاکہ یونیورسٹی اور جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طلبہ رہنما، نیز یونیورسٹیوں، اسکولوں، کالجوں اور مدارس کے طلبہ نے شرکت کی۔
جولائی یونٹی کے منتظم اسرافیل فرازی نے ڈھاکہ کے روزنامہ پروتھوم آلو کو بتایا کہ بدھ کا پروگرام محض ایک ‘انتباہ’ تھا۔ ان کا الزام تھا کہ بھارت نے عوامی لیگ کی سیاسی بحالی کے لیے لابیسٹ خدمات حاصل کر رکھی ہیں اور اس مقصد کے لیے بی این پی اور جماعتِ اسلامی سمیت دیگر جماعتوں سے روابط کیے جا رہے ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر بھی ایسی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں۔
اسرافیل فرازی نے کہاکہ آج ہم رک گئے ہیں، لیکن اگلی بار انتظامیہ ہمیں نہیں روک سکے گی۔ اگر شیخ حسینہ اور دیگر قاتل واپس نہ لائے گئے تو آنے والے دن بھارت کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو 21 سال قید کی سزا سنا دی
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جولائی یونٹی کے منتظم اور سابق ڈھاکہ یونیورسٹی طلبہ رہنما زبیر بن نصیر المعروف اے بی زبیر نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو براہِ راست وارننگ دی۔
انہوں نے بھارت پر جارحیت، سرحدی فائرنگ اور بنگلہ دیش میں جرائم کے مرتکب افراد کو پناہ دینے کے الزامات عائد کیے۔
انہوں نے کہا، ‘آج ہم ہائی کمیشن کے باہر رکے ہیں، اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو اگلی بار ہم اس میں داخل ہوں گے۔’
بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں احتجاج شام کے وقت اختتام پذیر ہوا، تاہم منتظمین نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں تحریک تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔




