آسٹریلیا کے سابق وزیرِاعظم میلکم ٹرنبل نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ آسٹریلیا کی سیاست سے دور رہیں۔
سابق آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سے نیتن یاہو کو یہ تنبیہ اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی رہنما نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملے کو بونڈائی بیچ میں ہونے والی فائرنگ سے جوڑا۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی واقعہ کے ملزم ساجد کا تعلق حیدرآباد سے تھا، انڈین پولیس کی تصدیق
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ آسٹریلیا کے اس سال کے آغاز میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے نے حملے سے قبل کے ہفتوں میں یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنےکا کام کیا۔
برطانیہ کے چینل 4 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےمیلکم ٹرنبل نے کہا کہ ’میں احترام کے ساتھ نیتن یاہو سے کہنا چاہوں گا کہ براہِ کرم ہماری سیاست سے دور رہیں۔
اگر آپ اس قسم کے تبصرے کریں گے تو اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی اور یہ درست بھی نہیں ہے۔
ٹرنبل نے موجودہ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کی حکومت کی حمایت کی جس نے اگست میں کئی دیگر مغربی ممالک کے ساتھ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، جب غزہ کی جنگ کے باعث بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا تھا۔
بونڈی حملے کے بعد ایک خطاب میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’چند ماہ قبل میں نے آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کو خط لکھا تھا کہ آپ کی پالیسی یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہود دشمنی ایک سرطان ہے جو اس وقت پھیلتا ہے جب رہنما خاموش رہتے ہیں۔
میلکم ٹرنبل نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اس تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا ایک نہایت کامیاب کثیرالثقافتی معاشرہ ہے اور وہ غیر ملکی تنازعات کو اپنے ملک میں درآمد ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ہوں یا دنیا کے کسی اور حصے کی، وہ یہاں آ کر نہ لڑی جائیں۔
ان کو آپس میں جوڑنے کی کوشش جیسا کہ نیتن یاہو نے کیا ہےمددگار نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی وزیراعظم نےسڈنی حملے کے ہیرو احمدکی بہادری کو سراہا
وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی سے پوچھا گیا کہ آیا فلسطین سے متعلق ان کی پالیسی اور بونڈائی حملے کے درمیان کوئی تعلق ہے تو انہوں نے بھی نیتن یاہو کے تبصروں کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی بھاری اکثریت مشرقِ وسطیٰ میں آگے بڑھنے کیلئے دو ریاستی حل کو ہی واحد راستہ سمجھتی ہے۔ یہ قومی اتحاد کا لمحہ ہے، جہاں ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے۔




