اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان بھر میں ڈیجیٹل فراڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز میں اضافہ کے پیش نظراین سی سی آئی اے نے نئی ایڈوائزری جاری کردی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حج 2026 انتظامات:حجاز مقدس میں عازمین حج کے لیے بڑی سہولیات
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نےڈیجیٹل دھوکادہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عوام کو باخبر رکھنے کیلئے نئی ایڈوائزری جاری کردی۔
این سی سی آئی اے نے عوام پرواضح کیا کہ بینک، نادرا یا ایف آئی اے کی جانب سے کبھی بھی واٹس ایپ پرکال نہیں کی جاتی ۔
ایسی صورتحال میں جب کوئی آپ سے واٹس ایپ پر او ٹی پی مانگے تو سمجھ جائیں یہ 100 فیصدفراڈیئے کا چکر ہے ۔ اس کا سرکاری اداروں سے کوئی لینا دینا نہیں
این سی سی آئی اے کی جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے “بینک منیجر”یا”سرکاری افسر”کی کال آنے پرگھبرائیں نہیں، پہلے تسلی کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی میڈیا بھی سڈنی حملہ آوروں کی بھارتی شہریت کا ثبوت سامنے لے آیا
واٹس ایپ پر کسی سرکاری لوگو والی کال آئے تو اسے فوراًبلاک کر دیں۔ اوٹی پی کامطلوبہ اکاؤنٹ کھولنے یا شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے درکا نہیں ہوتا۔
این سی سی آئی اے کی جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ نوسربازصارفین کو ڈراتےہیں کہ ابھی یہ کریں ورنہ آپ کا اکاؤنٹ بند ہوجائےگا۔
ایڈوائزی میں کہا گیا ہے اصلی بینک والے پروفیشنل ہوتے ہیں، وہ کبھی دھمکیاں نہیں دیتے، ایسے ڈرانے اور دھمکانے والوں سے ہرگزبات نہ کی جائے ۔
فراڈ نمبرکو نائن ٹرپل زیرو پر میسج کریں یا ون سیون نائن نائن پرکال کرکے اطلاع دی جائے۔




