حویلی(کشمیر ڈیجیٹل)ضلع حویلی کے شہری محمد دین نے الزام عائد کیا کہ محکمہ جنگلات نے “میرے بچوں کی چھت چھین لی ۔
محکمہ جنگلات کے ڈی ایف نوید موسی کا مؤقف “تعمیر غیر قانونی نشاندھی کے مطابق گھر جنگل کے رقبہ میں تعمیر ہو رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سڈنی: حملہ آور کو روکنے والے احمد الاحمد پرانعامات کی بارش
سب ڈویژن خورشید آباد، گاؤں کاچر بن، رقبہ بن بہادر کے رہائشی محمد دین ولد کالا نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ جنگلات نے ان کے بچوں کے سروں سے چھت چھین لی اور انہیں شدید سردی میں بے گھر کر دیا۔
محمد دین کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً 100 سال سے 3 مرلہ زمین پر رہائش پذیر ہیں، جو محکمہ جنگلات کے دائرہ اختیار سے باہر اور محکمہ مال کی ملکیت ہے، جس پر وہ پہلے سے قابض ہیں۔
حالیہ بارشوں کے باعث ان کا پرانا مکان لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گیا، جس کے بعد وہ مجبوری کے تحت پرانی جگہ سے 10 سے 15 گز کے فاصلے پر نیا مکان تعمیر کر رہے تھے، جس پر صرف چادر کی چھت ڈالنی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر ان کے زیر تعمیر مکان کی چھت اکھاڑ دی، جو ان کے بقول سراسر ناانصافی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل وہ ڈپٹی کمشنر حویلی کے پاس بھی گئے تھے، جہاں سے انہیں مکان تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی، اس کے باوجود محکمہ جنگلات نے انہیں بے گھر کر دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خانی زمان قتل کیس، 6 بچوں کی ماں اور آشنا سمیت 4 ملزمان گرفتار
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اس وقت شدید سردی میں ان کے بچے اور مال مویشی کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور، وزیر جنگلات، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، کمشنر پونچھ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر حویلی سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
محمد دین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ لالٹین جلا کر بچوں سمیت وزیر اعظم آزاد کشمیر کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت تک احتجاج کریں گے۔
دوسری جانب محکمہ جنگلات کے ڈی ایف او نوید موسیٰ کا کہنا ہے کہ جنگلات کے رقبے پر کسی بھی شخص کو، خواہ وہ بااثر ہو یا غریب، مکان تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کے مطابق محکمہ مال کی رپورٹ میں مذکورہ رقبہ جنگلات کا حصہ ہے انھوں نے مکان جنگلات کے رقبے میں تعمیر کیا ہوا ھے
ان کا مزید کہنا تھا جنگلاتی رقبے میں کسی بھی قسم کی تعمیر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تاہم سائل محمد دین کا مؤقف ہے کہ اگر مذکورہ رقبہ واقعی محکمہ جنگلات کا تھا تو ابتدا میں تعمیر کی اجازت کیوں دی گئی؟ اور موقع پر کی گئی ڈیمارکیشن کے دوران برجیاں غلط کیوں نصب کی گئیں؟
جس سے انہیں بلاوجہ نقصان اٹھانا پڑا۔ متاثرہ خاندان نے ایک بار پھر وزیر اعظم آزاد کشمیر سے فوری نوٹس لے کر انصاف فراہم کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔




