واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل) – پینٹاگون کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ تائیوان کے معاملے میں مداخلت کرے تو چین کے ہاتھوں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں تائیوان پر چینی حملے کے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین امریکی لڑاکا طیاروں، بڑے جنگی بحری جہازوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں تعیناتی سے قبل ہی مفلوج کر سکتا ہے۔ یہ انتباہ خفیہ دستاویز “اوورمیچ بریف” میں شامل ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی بدمعاشی پر اتر آئی، محکمہ برقیات کی ٹیم پر حملہ، تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز پینٹاگون کے آفس آف نیٹ اسسمنٹ نے تیار کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا مہنگے اور جدید ہتھیاروں پر انحصار اسے چین کے تیزی سے تیار ہونے والے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے۔ چین کے پاس ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے آغاز ہی میں امریکہ کے اہم عسکری اثاثوں کو ناکارہ بنا سکتی ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جی آکن نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے پیش آئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسلحہ خانہ، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائل، جدید طیاروں کا بیڑا،
مزید یہ بھی پڑھیں:اس صدی کا طویل ترین سورج گرہن جنوبی یورپ،شمالی افریقہ،مشرق وسطیٰ میں دیکھاجاسکے گا
بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت اسے خطے میں امریکی افواج پر واضح برتری دیتی ہے۔ چین کے پاس تقریباً 600 ہائپر سونک ہتھیار بھی موجود ہیں، جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز سفر کر سکتے ہیں اور روکنا انتہائی مشکل ہے۔
واضح رہے کہ بیجنگ تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد اور خودمختار ملک سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے۔
نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیوان نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر چین کے ساتھ جنگ چھڑ گئی تو امریکہ کے اہم ہتھیار بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔
فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی:
امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی نیوی، جدید ہوائی فوج، اور جدید ٹیکنالوجی ہے، جبکہ چین بھی تیزی سے اپنی فوج کو جدید بنا رہا ہے اور ایشیا میں اہم فوجی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔
جغرافیہ:
اگر جنگ مشرقی ایشیا یا بحرالکاہل میں ہوئی، تو چین کو اپنے علاقے میں فائدہ ہوگا، جبکہ امریکہ کو دور دراز سے لاجسٹکس اور سپلائی لائنز برقرار رکھنی ہوں گی۔
معاشی اور سیاسی عوامل:
عالمی معیشت، اتحادی ممالک، اور داخلی سیاسی حالات بھی جنگ کے نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
نیوکلیئر ہتھیار:
دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، جس کی وجہ سے مکمل جنگ بہت خطرناک اور غیر متوقع ہو سکتی ہے، اور یہ عام فوجی شکست یا جیت کے معیاری پیمانے پر نہیں ناپی جاتی۔




