بلغاریہ کے وزیراعظم روزن ژیلیازکوف نے معاشی پالیسیوں اور کرپشن کے الزامات کے خلاف مسلسل احتجاج اور عدم اعتماد کی تحریک سے قبل اپنے سیاسی اور حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دے دیاہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اور عوامی ردِعمل کے پیش نظر حکومت کے پاس مستعفی ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بابا وانگا کی 2026 کیلئے اہم اور بڑی پیشگوئیاں سامنے آگئیں
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بلغاریہ کے وزیراعظم نے ملک بھر میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاجات کے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے باعث استعفیٰ دیا۔
عوامی احتجاج اور مظاہرے اس زور پکڑنے لگے تھے جب حکومت نے 2026ء کے بجٹ کی تجاویز پیش کی تھیں جس میں ٹیکس اور سوشل سیکیورٹی میں ہوشربا اضافہ کیا گیا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں کا بھی مطالبہ تھا کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے کرپشن کم کرے۔ جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔
حکومت مخالفین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کرکے کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس کے بعد ملک بھر میں حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہاں تک کہ حکومت کو بجٹ تجاویز واپس لینا پڑیں۔
حکومت کے احتجاجات صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ درجنوں شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بریگیڈیئر راشدنصیر پر لگائے گئے الزامات کا کوئی دفاع نہیں،عادل راجہ نے معافی مانگ لی
جس کے بعد سے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگیا تھا تاہم اس سے قبل ہی مستعفی ہونے کا اعلان ٹیلی وژن خطاب میں کیا۔
بلغاریہ میں گزشتہ 4 برسوں کے دوران 7 بار الیکشن ہوچکے ہیں اور گزشتہ چند برسوں میں متعدد غیر مستحکم حکومتیں بنتی رہیں اور تحلیل ہوتی رہی ہیں۔
جس کے بعد سے حکومت پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے تاہم اس بار بھی امکان ہے کہ جلد نئے انتخابات ہوں گے جب تک کوئی نئی قائم حکومت تشکیل نہیں پاتی۔




