اسلامی یونیورسٹی پنشن سکینڈل،سینکڑوں ریٹائرڈملازمین مالی بحران کا شکار

اسلام آباد( کشمیر ڈیجیٹل)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے وفاقی حکومت کی جانب سے منظور شدہ پنشن میں اضافے کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود نافذ نہیں کیاگیا جس کے باعث سینکڑوں ریٹائرڈ ملازمین معاشی مشکلات اور مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق فنانس ڈویژن کے آفس میمورنڈم (O.M.No.4(1)Reg.6/2025)، مورخہ 5 اگست 2025 میں تمام وفاقی اور ماتحت اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ 2011، 2015، 2022، 2023 اور 2024 کے پنشن اضافوں کو یکم جولائی 2025 سے بنیادی پنشن میں شامل کیا جائے۔

احکامات میں واضح لکھا گیا کہ پنشن ’’گراس پنشن مائنس کمیوٹڈ پورشن‘‘ کے مطابق کیلکولیٹ کی جائے، لہٰذا عملدرآمد کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہا تھا۔

تاہم واضح سرکاری احکامات کے باوجود اسلامی یونیورسٹی نے اب تک کسی بھی منظور شدہ اضافہ، بشمول 7.5 فیصد، 15 فیصد اور 17.5 فیصد کو پنشن میں شامل نہیں کیا۔ پنشنرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایک روپیہ بھی اضافی پنشن کی مد میں ادا نہیں کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل ممتاز راٹھور کے وزیراعظم منتخب ہونے پر مخالفین کی نیندیں اڑ چکی ہیں، ہدایت اللہ راٹھور

اس کے برعکس یونیورسٹی نے یکم جولائی 2025 سے میڈیکل اور تنخواہ سے متعلق کٹوتیاں فوری طور پر نافذ کر دیں، جیسا کہ یونیورسٹی کے نوٹیفکیشن HRM&D/2025-IIUI-10718 مورخہ 8 جولائی 2025 میں درج ہے۔

پنشنرز کے مطابق کٹوتیوں کے نفاذ میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی، مگر جائز اضافے روک دینا ’’انتظامی غفلت‘‘ اور ’’امتیازی سلوک‘‘ ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین نے بتایا کہ بڑھتی مہنگائی اور صحت کے اخراجات کے سبب یہ تاخیر ان کیلئے شدید مشکلات کا باعث ہے۔

’’کٹوتیاں تو جونہی جولائی شروع ہوا، نافذ کر دی گئیں، مگر اضافے کیوں روکے گئے؟‘‘ ایک سابق افسر نے سوال اٹھاتے ہوئے اسے ’’غیر قانونی اور بلاجواز‘‘ اقدام قرار دیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنشن کوئی اختیاری الاونس نہیں بلکہ وفاقی مالیاتی قوانین کے تحت محفوظ حق ہے۔ پنشن میں اضافہ روکنا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور ذمہ دار حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پنشنرز نے معاملہ یونیورسٹی کے ریکٹر اور صدر کے ساتھ ساتھ وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارتِ خزانہ تک بھی پہنچا دیا ہے۔

پنشنرز کا مطالبہ ہے کہ اضافہ فوراً نافذ کیا جائے اور جولائی 2025 سے واجبات کی ادائیگی فوری شروع ہو۔ بصورتِ دیگر وہ احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے چکے ہیں

یونیورسٹی کے ترجمان کو اس حوالے سے سوالنامہ بھیجا گیا تھا، ترجمان نے کہا کہ”مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث پیش رفت میں تاخیر کا سامنا رہا۔ تاہم موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ اس مسئلے کے جلد از جلد اور مستقل حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔”

Scroll to Top