اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے دھرنا ختم کرا دیاہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک عظمی خانم کو بچاتے ہوئے نالے میں گر گئے، جس سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
پولیس کی اس کارروائی کے بعد دھرنے میں موجود کارکنوں اور خواتین میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ میں بیٹھے مجرم کوملکی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے، وزیردفاع
ادھر دن کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکن نے اڈیالہ جیل کے باہر جاری دھرنے کے دوران پارٹی قیادت پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ خان کے جانثار کہاں ہیں؟۔
اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کے دھرنے میں نوشہرہ سے آئے کارکن فضل امین نے پی ٹی آئی قیادت کی کارکردگی پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے دعوے کرتے ہیں، وہ دھرنے میں کہاں ہیں اور کارکنان کے مسائل کے حل کے لیے کچھ کیوں نہیں کر رہے۔
رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے کارکن سے کہا کہ یہاں سب غیرت مند بیٹھے ہیں، لیکن فضل امین نے ان پر بھی کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی لیڈر بننے کے بعد شاہد خٹک غلط باتوں کو نظر انداز نہ کریں۔
کارکن نے کہا کہ موجودہ قیادت صرف تصویریں اور ٹک ٹاک بنانے کے لیے دھرنے میں آتی ہے، جبکہ کارکن مسلسل مشکلات اور ذلت برداشت کرتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قیادت کے لئے کارکن کی قربانیاں اہمیت نہیں رکھتیں اور دھرنے کا مقصد محض تفریح یا مزے کرنا بن چکا ہے۔




