جامعہ کشمیر کانوکیشن،7ہزار سے زائد طلباء کوڈگریاں،51گولڈمیڈل ، 28پی ایچ ڈی سکالرز میں اسناد تقسیم

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے 21ویں کانووکیشن میں 7500سے زائد گریجویٹس طلبہ و طالبات میں اسناد کی تقسیم۔

کنگ عبداللہ کیمپس چھترکلاس میں ہفتہ کے روزمنعقدہ 21ویں کانووکیشن کی شاندار اور پر وقار تقریب میں 51نمایاں طلبہ میں گولڈ میڈل جبکہ 28پی ایچ ڈی سکالرز کو بھی ڈگریاں عطاء کی گئیں۔

تقریب کے مہمان خصوصی قائمقام صدر آزادجموں وکشمیر و چانسلر جامعہ کشمیر چوہدری لطیف اکبر تھےاپنے خطاب میں کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ طلبہ کو اپنی پیشہ ورانہ اور علمی زندگی میں دیانتداری، نظم و ضبط اور جدت کے اصول اپنانے چاہیے

خطے اور قوم کا مستقبل تعلیم یافتہ اور ذمہ دار نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔چانسلر جامعہ کشمیر نے یونیورسٹی کی علمی ترقی، تحقیق، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور طلبہ کی سہولت کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو سراہا۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، بایوٹیکنالوجی، نرسنگ اور فارمیسی جیسے نئے شعبوں کے آغاز کو یونیورسٹی کے جدید اور عالمی معیار کے تعلیمی عزم کی علامت قرار دیا۔

مالی چیلنجز کے حوالے سے قائمقام صدر نے کہا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کی مضبوطی کیلئے عملی اقدامات کرے گی۔

انہوں نے فیکلٹی سے بھی اعلیٰ تعلیمی معیار قائم رکھنے، علمی دیانتداری کو فروغ دینے اور طلباء کو مستقبل کے ذمہ دار قائدین بنانے کی اپیل کی۔

کنٹرول لائن کے پار کشمیری نوجوانوں کے حالات پر بات کرتے ہوئے،انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کشمیری عوام کی آواز دبانے میں مصروف ہیں اور آزاد جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے حقوق کیلئے ہر ممکن پلیٹ فارم، بشمول سوشل میڈیا، پر آگاہی پیدا کریں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسپین میں خاتون ملازمہ کو دفتر جلدی پہنچنے پر نقصان اٹھانا پڑا

وائس چانسلر پروفیسر ناصر جمال خٹک نے مہمانانِ گرامی اور گریجویٹس کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن فخر، کامیابی اور امید کا دن ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کو خطے کی سب سے بڑی اور پرانی اعلیٰ تعلیمی ادارہ قرار دیا، جو نیلم، بھمبر، کوٹلی، ہویلی، لیپا، راولاکوٹ اور دیگر دور دراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرتی ہے۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر مظفرآباد کو اس وقت ایک ارب روپے سے زائد مالی خسارے کا سامنا ہے اور اس کے اسباب میں مہنگائی، بڑھتے آپریشنل اخراجات اور پنشن کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ کشمیر نے اینڈومنٹ فنڈ کے قیام اور پنشن فنڈ کو مضبوط کرنے جیسے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ یونیورسٹی کی ترقی اور استحکام کیلئے تعاون کرے۔

طلبہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے، وائس چانسلر نے سکالرشپس، معذور طلبہ کے لیے مفت رہائش، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی سہولت، ذہنی صحت کی سپورٹ اور طلبہ میں کاروباری اور جدت کی حوصلہ افزائی کے پروگراموں کا ذکر کیا۔۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا مشن تنوع، شمولیت اور مساوی مواقع پر مبنی ہے۔تقریب میں انڈرگریجویٹ، گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ پروگرامز کے طلبہ کو ڈگریاں دینے کے ساتھ انہیں شاندار تعلیمی اور تحقیقی خدمات پر خصوصی طور پر سراہا گیا۔

کانووکیشن کا باقاعدہ آغاز جلوس علمی سے ہواجس میں چانسلر، وائس چانسلر، ڈینز، فیکلٹی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جو یونیورسٹی کی علمی روایت اور معیار کی علامت ہے۔

گریجویٹس طلبہ نے کامیابی حاصل ہونے پروالدین، اساتذہ اور ادارے کاشکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے علم اور مہارت کو کیریئر اور کمیونٹی کی خدمت میں استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
تقریب میں حکومتی عہدیدار، ماہرین تعلیم، میڈیا نمائندگان اور والدین نے شرکت کی۔

Scroll to Top